اسلام آباد ہائیکورٹ کے متنازع ترین جج محسن اختر کیانی


اسلام آباد:حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک سابق عہدیدار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنئیر جج جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں درخواست دائر کردی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکرٹری محمد وقاص نے ایس جے سی میں دائر ریفرنس میں الزام لگایا کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے منصوبہ بندی کے تحت ہائی کورٹ کے دیگر ججوں کو قائل کرکے افواج پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑی۔اس میں کہا گیا کہ معزز جج کا اقدام نیک نیتی کی بنیاد پر نہیں ہے جبکہ ان کے خلاف پہلے ہی ایک ریفرنس دائر ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں، اس ریفرنس میں ان کی ساکھ اور بطور جج ان کے طرز عمل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان 6 ججز میں شامل تھے جنہوں نے ججز کے کام میں خفیہ ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت اور دبائو میں لانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔
ریفرنس میں ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی ہے ، آرٹیکل 209 ایس جے سی کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی صلاحیت اور طرز عمل کے بارے میں انکوائری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یاد رہے کہ ان کے خلاف جون 2023 میں بھی ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں مبینہ طور پر جانبداری اور ان کے معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثے بنانے پر ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔شکایت گزار خیبرپختونخوا بار کونسل (کے بی سی) کے وکیل مرتضی قریشی نے جج کے خلاف ایک ایسے وقت میں ریفرنس دائر کیا جب پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی آئین کے آرٹیکل 209 کا جائزہ لے رہی ہے، جو کہ اعلی عدالتوں کے ججز کے خلاف تادیبی کارروائی سے متعلق ہے، کیونکہ یہ آئینی شق عملی طور پر بے کار ہو چکی ہے۔
انہوں نے جسٹس محسن اختر کیانی پر اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے ججوں کی ترقی میں جانبداری کا الزام لگایا اور ریئل اسٹیٹ کے کاروبار پر بھی روشنی ڈالی جس میں جج مبینہ طور پر شیئر ہولڈر ہیں۔
ریفرنس میں کہا گیا کہ جج بننے کے بعد انہوں نے ان جوڈیشل افسران کو ترقی دی جو ان کی سابقہ قانونی فرم کا حصہ تھے اور دیگر ججوں کے کیریئر کو تباہ کردیا جنہیں پہلے ڈیپوٹیشن پر اور بعد میں وفاقی دارالحکومت کی عدلیہ میں شامل کیا گیا تھا۔
شکایت گزار کا کہنا تھا کہ جج جب اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر تھے تو انہوں نے مبینہ طور پر ان ججوں کے تبادلے کے لیے کوششیں کی جو صوبوں سے ڈیپوٹیشن پر وفاقی دارالحکومت میں کام کر رہے تھے۔
اسلام آباد کی عدلیہ کے تقریبا دو درجن ججوں نے اسلام آباد کے چیف جسٹس کے سامنے منفی کارکردگی کی جانچ کی رپورٹوں کے خلاف نمائندگیاں دائر کی ہیں، ان میں سے کچھ نے سروس ٹربیونل کے سامنے اپنی بالادستی کو چیلنج بھی کیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پہلے ہی ججوں کی شکایات کے ازالے کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معزز جج جوڈیشل سروس ٹربیونل کے چیئرمین ہیں اور ماتحت عدلیہ کے متاثرہ ججوں کی جانب سے دائر اپیلوں کو نمٹانے میں تاخیر کر رہے ہیں۔
ریفرنس میں کہا گیا کہ جج نے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے اثاثوں کی مالیت 5 سے 6 کروڑ روپے ظاہر کی جبکہ ان کے اصل اثاثوں کی مالیت ایک ارب 87 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔
شکایت گزار نے سپریم جوڈیشل سے درخواست کی کہ وہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ان الزامات کی باقاعدہ انکوائری کرے۔
دوسری جانب
اسلام آباد بار کونسل کے وائس چئیرمین عادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ نے جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف دائر ریفرنس سے متعلق رد عمل دیتے ہوئے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ دائر ریفرنس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔میں ، بس یہی کہوں گا کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو، افسوس ہماری بار میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو چند پیسوں کے لیے یہ کام کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریفرنس میں جو متن لکھا گیا ہے وہ ایک من گھڑت کہانی ہے، یہ ناسور اور کالی بھیڑیں افسوس ہے کہ ہماری بار کے ممبر ہیں، ریفرنس دائر کرنے والے وکیل 17 بار بار کے الیکشن لڑے اور 200/250 لے سکے۔عادل عزیز قاضی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمارے ججز میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں اور ہمیں ان پر بھروسہ ہے، قانون اور رول اف لا کی ہر چیز کے لیے ہم کھڑے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے 25 مارچ کو ججز کے کام میں خفیہ ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت اور دبائو میں لانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔خط لکھنے والوں میں
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس سمن رفت امتیازشامل ہیں۔
خط میں کہا گیا کہ ہم بطور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز سپریم جوڈیشل کونسل سے ایگزیکٹیو ممبران بشمول خفیہ ایجنسیوں کے ججز کے کام میں مداخلت اور ججز کو دبا میں لانے سے متعلق رہنمائی چاہتے ہیں۔