شرفا ء کی پگڑیاں اچھالنے پر عدالت نے 10 ہزار پائونڈ جرمانہ لگا دیامعاف کرانے گئے تو 3 ہزار مزید لگ گیا

لندن:معروف یو ٹیوبر میجر (ر) عادل راجہ اپنی متنازعہ ویڈیوز کے باعث برطانوی قانون کے شکنجے میں پھنس گئے ہیںاور برطانوی عدالت نے غیر ذمہ دارانہ اور بیانات دینے پر 10 ہزار پائونڈجرمانہ کر دیا ہے عادل راجہ جب اپنا یہ جرمانہ معاف کروانے گئے تو عدالت نے ان کا جرمانہ معاف کرنے کی بجائے تین ہزار مزید بڑھا کر اسے 13 ہزار کردیا ہے ۔برطانوی عدالت میں بریگیڈیئر(ر) راشد نصیر کی جانب سے دائرکیس میں 10 ہزارپائونڈ جرمانے کو معاف کرانے کی اپیل مسترد ہوگئی ہے۔
برطانوی عدالت میں مدعی بریگیڈئر راشد (ر) نے مقف اختیار کیا کہ عادل راجہ نے تاحال 10 ہزار پانڈ جرمانے کی رقم ادا نہیں کی جس پر برطانوی عدالت کے ڈپٹی جج ہائیکورٹ مسٹر رچرڈز سپیئرمین نے بھگوڑے عادل راجہ کو مزید 3 ہزار پانڈ ادا کرنے کا حکم جاری کردیا۔
عادل راجہ نے جرمانہ معاف کرنے کی اپیل 16 اپریل 2024 کو دائر کی تھی جو مسترد ہوئی اور اب انہیں یہ جرمانہ اضافہ تین ہزار پانڈ کے ساتھ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
یاد رہے کہ برطانوی عدالت نے عادل راجہ کو مدعی بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر کی 2 درخواستوں، ہتک عزت کیس پر حکم امتناع اور سیکیورٹی اخراجات کی مد میں 10 ہزار پانڈ کی ادائیگی کا حکم صادر کیا تھا۔
برطانوی عدالت نے قراردیا تھا کہ عادل راجہ نے بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کی اپنی ٹویٹر/ ایکس، فیس بک اور یوٹیوب کی 9 پبلیکیشنز میں ہتک کی۔ عادل راجہ کو اس رقم کی ادائیگی کیلئے 17 اپریل 2024 تک کا وقت دیا گیا تھا مگر انہوں نے 16 اپریل کو جرمانے کی معافی کیلئے اپیل دائرکی تھی تاہم عدالت نے ان کا جرمانہ معاف کرنے کی بجائے اسے دس سے بڑھا کر تیرہ ہزار پائونڈ کر دیا ہے۔
عادل راجہ کی جرمانہ معافی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی کہ برطانوی عدالت ان کے مقف سے مطمئن نہیں۔
یاد رہے کہ عادل راجہ نے افسر کیخلاف اپنی مہم کا آغاز 14 جون 2022 کو ٹویٹز اور یوٹیوب اور فیس بک پر ویڈیوز کے ذریعے کیا تھا۔ عدالتی دستاویزات سے حاصل معلومات کے مطابق ریٹائرڈ بریگیڈیئر راشد نے اپنے برطانوی وکلا کے ذریعے 11 اگست 2022 کو اپنا کیس دائر کیا تھا۔ بیرون ملک بیٹھے ملک دشمن عناصر کے گرد اب قانون کا گھیرا تنگ ہوچکا ہے۔
معروف یو ٹیوبر عادل راجہ برطانوی قانون کے شکنجے میں پھنس گئے




