یہ امراء اور مراعا ت یافتہ طبقے کا بجٹ ہے ،صحت اور تعلیم کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے
سفید ہاتھی بنے اداروں کی نجکاری کا کوئی پلان دیا گیا ہے اور نہ خسارے کے شکار اداروں کو منافع بخش بنانے کاکوئی منصوبہ
آئی ایم ایف سے جان چھڑا کر ملکی معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی کوئی پالیسی نہیں دی گئی ،صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(نیوزرپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے وفاقی بجٹ 2024_25کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عید قربان سے قبل پاکستانی عوام اور معیشت کو قربان کرنے کا بجٹ پیش کیا بجٹ میں نہ کوئی مستقبل کی سمت اور نہ ہی کوئی پالیسی گائیڈ لائن پیش کی گئی ,وفاقی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان جنم لے گا جو عام آدمی کو بری طرح متاثر کریگا یہ بجٹ امیروں اور مراعات یافتہ طبقے کو مزید نوازنے کا بجٹ ہے اس بجٹ میں آئی ایم ایف سے جان چھڑا کر ملکی معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی کوئی پالیسی نہیں دی گئی،بجٹ میں صحت اور تعلیم کویکسر نظر انداز کیا گیااور جو ادارے سفید ہاتھی بنے ہوئے ہیں ان کی نجکاری کا کوئی پلان نہیں دیا گیا اور نہ ہی خسارے کے شکار اداروں کو منافع بخش بنانے کامنصوبہ پیش کیا، حکومت اس بجٹ کو پاس کرانے سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے عوام اور معیشت دوست بجٹ پیش کرے بصورت دیگر مرکزی تنظیم تاجران تمام سٹیک ہولڈر کی مشاورت سے آئندہ لائحہ عمل دے گی اور اگر عوام اور معیشت دوست بجٹ نہ دیا گیاتو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق احتجاج کا رستہ اپنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے دیگر تاجر رہنماوں کے ہمراہ وفاقی بجٹ پرہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ تاجروں کی تجاویز، مشاورت اور اعتماد میں لیے بغیر معیشت کیلئے تباہ کن بجٹ پیش کیا گیایہ بجٹ خسارے ، ٹیکسز میں اضافے اور سبسڈیز کا مجموعہ ھے ، صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں مراعات یافتہ طبقہ پر نوازشات ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں دیا گیا ۔یہ غریبوں پر بوجھ ڈالنے کا بجٹ ہے۔ موجودہ بجٹ سے معیشت کی گروتھ کی بجائے صنعت و تجارت کا پہیہ مزید سست ھو گا جس سے مہنگائی کا نیا طوفان جنم لے گا انہوں نے کہا کہ قومی آمدن کو سود کی ادائیگی میں خرچ کر دینا اور عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا اور نہ ہی آئی ایم ایف سے سے چھٹکارا پانے اور معیشت کو پاوں پر کھڑا کا کوئی پلان دیاگیا ۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی میں اضافے بجلی کی بنیادی قیمت میں اضافہ سے پیداواری لاگت بڑھے گی اور مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جس سے عام آدمی شدید متاثر ہوگا جائیداد کی خرید و فروخت پر 5% فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا نفاذ کسی صورت قابل قبول نہیں جائیداد پر کیپیٹل گین ٹیکس کی مدت کو ختم کر کے 15 اور 45 فیصد ٹیکس کا نفاذ ناقابل برداشت ھے ۔انکم ٹیکس کے سلیبز کو بڑھانا اور تنخواہ دار طبقہ پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ۔کاشف چوہدری صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے کہا کہ ایکسپورٹرز پر نارمل ٹیکس رجیم کے نفاذ سے ملکی برآمدات بری طرح متاثر ھونگی تاجروں، ھول سیلرز ،ریٹیلرز پر 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو 2.5 % کرنا کسی طور درست نہیں ۔
بجٹ میں اخراجات کم کرنے کا کوئی واضح لائحہ عمل نہیں دیا گیا قرضوں کے بھاری بھر کم حجم میں 1500 ارب کا ترقیاتی پروگرام کسی طور درست سمت نہیں ہے ۔شرح سود کو قابل ذکر نمبر تک کم نہ کرنے سے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ بجٹ پیش کرکے عید قربان سے قبل عوام اور معیشت کی قربانی کر دی گئی حکومت بجٹ پاس کرنے سے قبل اسٹیک ھولڈرز کی مشاورت سے قابل برداشت ٹیکس نافذ کرے ۔
۔۔۔۔۔۔




