حکومت سے مذاکرات، بانی پی ٹی آئی کے یوٹرن نے پارٹی کی سنئیر قیادت کو تشویش میں مبتلاء کر دیا


بانی پی ٹی آئی کا عوامی مینڈیٹ چرانے والوں سے کبھی مذاکرات نہ کرنے کا بیانیہ تبدیل ہونے پر سنئیر قیادت نے خود کو سائڈ لائن کر لیا
جن کے پاس اختیار ہی نہیں ان سے مذاکرات کا کیا فائدہ،بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کے حوالے سے سنئیر قیادت کو اعتماد میں بھی نہیں لیا

اسلام آباد(ناصر کاظمی سے)بانی پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت سے مذاکرات نہ کرنے کے معاملے پر اچانک یوٹرن لینے پر پی ٹی آئی کے اندر بھی تشویش پائی جاتی ہے اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بعض سنئیر قائدین کو بانی پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کے معاملے پر اعتماد میں نہ لینے پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں تاہم یہ پارٹی راہنما فی الحال اس معاملے پر کھل کر ردعمل دینے سے گریز کررہے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق ان پارٹی راہنمائوں کا موقف ہے کہ حکومت سے مذاکرات کا معاملہ عام نہیں ہے بلکہ بہت اہم ہے بانی پی ٹی آئی اب تک ہر فورم پر یہی کہتے رہے کہ پی ٹی آئی کا عوامی مینڈیٹ چرانے والی حکومتی جماعتوں مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے مذاکرات کسی صورت نہیں ہوں گے چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے،بانی پی ٹی آئی کا یہ بھی موقف رہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں تو اس سے مذاکرات کیوں کیے جائیں ،مذاکرات ان سے ہوں گے جن کے پاس اختیار ہے تو اب ایسا کیا ہوگیا کہ بانی پی ٹی آئی اچانک حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئے،ذرائع کہنا ہے کہ جن سنئیر پارٹی قائدین کو اس اہم معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا انہوں نے خود کو پارٹی سے سائیڈ لائن کرلیا ہے ،اور خاموش رہتے ہوئے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کرلی ہے،ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے ان ناراض پارٹی راہنمائوں کو بانی پی ٹی آئی سے یہ بھی گلہ ہے کہ انہوں نے بعض خوشامدیوں کو قریب کرلیا ہے جبکہ حقیقی اور قربانیاں دینے والے راہنمائوں اور کارکنوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے جس سے پارٹی کو ان دیکھا سیاسی نقصان ہورہا ہے