کرکٹ بورڈ ہمیشہ شکست کے بعد خود کو بچانے کے لئے کھلاڑیوں کو آمنے سامنے کر دیتا ہے
انہیں کرکٹ کا زیادہ علم نہیں ،مشیر بھی اچھے نہیں، ایڈوائزر کے کہنے پر چلیں گے تو کچھ نہیں ہوگا : سابق کپتان

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سٹار آل رائونڈر شاہد خان آفریدی نے چئیرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پی سی بی کی چئیرمین شپ یا وزارت داخلہ میں سے ایک عہدہ اپنے پاس رکھیں،کرکٹ بورڈ ہمیشہ شکست کے بعد خود کو بچانے کے لئے کھلاڑیوں کو آمنے سامنے کر دیتا ہے۔
44 سالہ شاہد آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم نے ہر مشکل حال میں بھارت جاکر کھیلا ہے۔ اگر بھارت کی نیت نہیں ہوگی تو بھارت بہانے کرتا رہے گا۔ بھارت کو پاکستان نہیں آنا تو نہ آئے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر کا مزید کہنا تھا کہ بورڈ کا کردار باپ کا ہوتا ہے۔ مسئلے کو بڑھائیں مت کم کریں۔ بورڈ اپنے آپ کو بچانے کے لیے کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کے سامنے نہ کرے۔ ڈسپلن کا مسئلہ پہلے بھی ہوتا تھا اس کو حل کرنا آنا چاہیے۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ محسن نقوی کو کرکٹ کا زیادہ علم نہیں ہے۔ ان کے پاس پی سی بی اور وزارت داخلہ بھی ہے۔محسن نقوی کو ایک فیصلہ کرلینا چاہیے، وہ ایک عہدہ چن لیں ۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی کے ایڈوائزر کو کرکٹ کے بارے میں علم نہیں ہے، ایڈوائزر انہیں درست سمت کی جانب لے کر نہیں جاسکیں گے، چیئرمین پی سی بی کے ایڈوائزر اس قابل نہیں، گیری کرسٹن کی ضرورت پاکستان ٹیم کو نہیں گراس روٹ پر ہے۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ تمام کھلاڑی میرے لیے برابر ہیں، شاہین آفریدی کی تعریف کم کرتا ہوں ،جب کرکٹرز اچھا کھیلتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے، شکست ہوتی ہے تو سب ذمہ دار ہوتے ہیں ، ایک یا دو سلیکٹر کو ہٹا کر کچھ نہیں ہوگا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے کھلاڑیوں کو آمنے سامنے لانا درست نہیں لہذا کرکٹ بورڈ خود کو بچانے کے لیے کھلاڑیوں کو آمنے سامنے لاکر کھڑا نہ کرے۔ پاکستان ٹیم کے لیے 20 سے 22 سال کھیل چکا ہوں، میرے دور میں بھی مسائل بہت رہے ہیں۔
عبدالرزاق اور وہاب ریاض پر نام لئے بغیر تنقید کرتے ہوئے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی کے ایڈوائزر کو کرکٹ کے بارے میں علم نہیں ہے، ایڈوائزر انہیں درست سمت کی جانب لے کر نہیں جاسکیں گے، چیئرمین پی سی بی کے ایڈوائزر اس قابل نہیں۔
شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ میرے بیانات سے شاہین آفریدی پر اثر پڑتا ہے اور لوگ منفی باتیں کرتے ہیں اس وجہ سے بولنا چھوڑ دیا ہے، شاہین کی تعریف میں بہت کم کرتا ہوں، میں صرف شاہین کو ڈانٹتا نظر آوں گا کیونکہ میری جب بھی کوئی بات ہوتی ہے تو منفی سوچ بنا لی جاتی ہے۔
سابق کپتان نے کہا کہ بھارت کے شہروں میں ہم مشکل حالات میں بھی جاتے رہے ہیں اور دھمکیوں کے باوجود بھی ہم کھیل چکے ہیں، بہرحال اگر آپ نہیں آنا چاہتے ہیں پاکستان تو مت آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ شکست ہوتی ہے تو سب ذمہ دار ہوتے ہیں، ایک دو سلیکٹر کو ہٹاکرکچھ نہیں ہوگا، ہاتھ کھڑا کرکے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جارہا تھا، یہ کیا ہورہا تھا۔
محسن نقوی پی سی بی کی چئیرمین شپ یا وزارت داخلہ میں سے ایک رکھیں: شاہد آفریدی



