سکیم کے تحت ایک تا پانچ مرلہ تک کے پلاٹ مالکان گھر بنانے کیلئے بلاسود قرضہ حاصل کر سکیں گے
سرکاری زمین پر گرائونڈ اور تین منزلہ اپارٹمنٹ کے پروگرام کا پی سی ون منظور ہوگیا ہے فزیبلٹی سٹڈی بھی جلد ہوگی
پروگرام کیلئے خصوصی پورٹل تیار کیا جائے گا، خواہشمند افراد گھر بیٹھے آن لائن درخواست جمع کرا سکیں گے
پلاٹ پر قرض حاصل کرنے والوں سے سروس چارجز لینے سے بھی روک دیا، قرض کی ادائیگی پر سروس چارجز حکومت پنجاب ادا کرے گی
لاہورؤ:وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اپنی چھت اپنا گھر پراجیکٹ کے تین ماڈلز کی منظوری دے دی ہے ۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اپنی چھت اپنا گھر پراجیکٹ کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی اجلاس ہوا، سینیٹر پرویز رشید اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب بھی اجلاس میں شریک ہوئیں، سیکرٹری ہائوسنگ کیپٹن ریٹائرڈ اسد اللہ خان نے پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی جس کے بعد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر پی آئی ٹی بی اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کیلئے خصوصی پورٹل تیار کرے گا، جس کی مدد سے خواہشمند افراد گھر بیٹھے آن لائن درخواست جمع کرا سکیں گے، پروگرام کے فارمز ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کے دفاتر سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، سکیم کے تحت ایک تا پانچ مرلہ تک کے پلاٹ مالکان گھر بنانے کیلئے بلاسود قرضہ حاصل کر سکیں گے، وزیر اعلی مریم نواز کی ہدایت پر گھر کے مالکان کو آسان قسط پر قرضہ ادا کرنے کی سہولت ملے گی، سرکاری زمین پر گرائونڈ اور تین منزلہ اپارٹمنٹ کے پروگرام کا پی سی ون منظور ہوگیا ہے فزیبلٹی سٹڈی بھی جلد ہوگی۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ نجی سکیموں میں تین اور پانچ مرلہ کے گھرپنجاب ہائوسنگ اینڈ ٹائون پلاننگ ایجنسی (پھاٹا) کے الاٹیز کو ملیں گے، پھاٹا کے الاٹی نجی سکیم میں گھر لینے پر پانچ سال میں گھر کی اقساط ادا کریں گے، حکومت پنجاب نجی ہاسنگ سکیم میں گھر کی لاگت کا بوجھ کم کرنے کیلئے سبسڈی دے گی، کسی بھی شہر یا گائوں میں 70 ہزار پلاٹ مالکان قرض لے سکیں گے، پانچ مرلہ تک پلاٹ کے مالک کو گھر بنانے کیلئے بلا سود قرض ملے گا۔
معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کے دوران وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اپنی چھت اپنا گھر پراجیکٹ کے تین ماڈلز کی اصولی منظوری دے دی ہے مریم نواز نے ماڈل گھروں کے نقشے میں لیونگ روم بھی شامل کرنے کی ہدایت کر دی، اس کے علاوہ وزیراعلی پنجاب نے عوام کی سہولت کے لئے ٹال فری نمبر متعارف کرانے کا بھی حکم دے دیا، وزیراعلی نے پلاٹ پر قرض حاصل کرنے والوں سے سروس چارجز لینے سے بھی روک دیا، مائیکروفنانس اداروں کے ذریعے قرض کی ادائیگی پر سروس چارجز حکومت پنجاب ادا کرے گی۔


