اسرائیل سے تمام تعلقات منقطع ترکی نے بڑا اعلان کر دیا

ترکی اپنی حیثیت اور طاقت کے مطابق ہر وہ کام کرے گا جس سے غزہ پر اسرائیلی مظالم کے حوالے سے نیتن یاہوکا مواخذہ کیا جاسکے
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر کی سعودی عرب اور آذربائیجان کے دورے سے واپسی کے موقع پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو


استنبول:ترک صدر رجب طیب اردوان نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اردگان نے اسرائیل سے تمام تعلقات منقطع کرنیکے اعلان کے ساتھ ہی اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کیلئے ایک رسمی خط بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کیا ہے۔غزہ پر اسرائیل کے حملے اور مسلمانوں کی نسل کشی کے ارتکاب کے سبب ترک صدرپر اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کے حوالے سے شدید دبائو تھا اور انہیں عوام کے شدید غم وغصے کا سامنا تھا۔
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق،ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے سعودی عرب اور آذربائیجان کے دوروں کے بعد اپنے طیارے میں سوار صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ ترکی کی حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات نہ جاری رکھے گی اور نہ ہی قائم کرے گی۔اور ہم مستقبل میں بھی اس موقف کو برقرار رکھیں گے۔ ترک صدر نے کہا کہ ترکی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو غزہ میں ان کے اقدامات کیلئے جوابدہ ٹھہرانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا، جسے انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپوں نے نسل کشی قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ مئی میں اسرائیل پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے باوجودترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے تھے۔اگرچہ ترک حکومت نے گزشتہ سال باضابطہ طور پر اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا، تاہم تل ابیب میں ترک سفارتی مشن کھلے اور کام کر رہے ہیں جبکہ اسرائیل نے علاقائی سلامتی کے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے گزشتہ سال انقرہ میں اپنا سفارت خانہ خالی کر دیا تھا۔
اردگان نے کہا کہ ترکی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو غزہ میں ان کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش کرے گا، جسے انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپوں نے نسل کشی قرار دیا ہے۔اس سال کے شروع میں، ترکی نے فلسطین کی حمایت میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں مداخلت کی اور تل ابیب کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کی وکالت کی۔
اردگان نے کہا کہ 52 ممالک اور دو بین الاقوامی تنظیموں نے نومبر کے اوائل میں اقوام متحدہ میں ترکی کی جانب سے ہتھیاروں کی پابندی کے اقدام کی حمایت کا اظہار کیا تھا، جس کا مقصد اسرائیل کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی ترسیل کو روکنا تھا۔اردگان نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اس اقدام سے متعلق اپنا رسمی خط پیش کیا ہے۔”ریاض میں ہماری سربراہی کانفرنس کے دوران، تمام تنظیموں اور عرب لیگ کے اراکین کو اس خط پر دستخط کرنے کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ سال ستمبر میں نیو یارک میں اردگان اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سے تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔تاہم، 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے زیرقیادت حملے اور اس کے نتیجے میں غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے بعد، جس میں 43,000 سے زیادہ فلسطینی مارے گئے، انقرہ نے نیتن یاہو حکومت پر اپنی تنقید کو تیز کر دیا ہے۔اس کے نتیجے میں قانونی اقدامات اور تجارتی پابندیاں شامل ہیں، خاص طور پر ترکی میں مقامی انتخابات کے بعد جہاں اردگان کی حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (AKP) کو غزہ پر جنگ کے بارے میں کمزور ردعمل پر جزوی طور پر سزا دی گئی۔
ستمبر کے بعد سے، تیسرے ممالک اور فلسطین کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ ترکی کی جاری تجارت نے حزب اختلاف کی طرف سے عوامی دبا ئوکی مہم کو جنم دیا ہے، جس نے اردگان پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان خامیوں کو بند کرنے میں ناکام رہے ہیں جو مسلسل تعامل میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔