طالبان کی جانب سے ہندوستان میں پہلے سفیر کی تعیناتی

ہندوستان میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان اکرام الدین کامل کو ممبئی میں افغانستان قونصلیٹ کا کارگزار کونسل مقرر کیا گیاہے

اسلام آباد:افغان طالبان نے ہندوستان میں اپنے پہلے سفیر کا تقرر کر دیا ہے۔ہندوستان میں زیر تعلیم ایک طالبعلم اکرام الدین کامل کو ممبئی میں افغانستان قونصلیٹ کا کارگزار کونسل مقرر کیا ہ گیاہے۔
یاد رہے کہ ہندوستان پڑوسی ملک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا جس نے 2021 میں کابل کی حکومت سنبھالی ہے۔ افغانستان کی سابق اشرف غنی حکومت کے زوال کے بعد ہندوستان نے اپنے سفراء کو کابل اور دیگر شہروں سے واپس طلب کرلیا تھا۔
حال ہی میں طالبان حکومت نے ہندوستان میں ایک نوجوان اکرام الدین کامل کو ممبئی میں افغانستان قونصلیٹ کا کارگزار کونسل مقرر کیا ہے۔ طالبان کی جانب سے یہ پہلا تقرر ہے۔
وزارت خارجہ کے پاکستان۔ افغانستان ڈیویژن کے جوائنٹ سکریٹری جے پی سنگھ کی زیر قیادت ایک وفد نے چند دن پہلے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور ملا محمد یعقوب کے ساتھ بات چیت کی تھی جو طالبان کے کارگزار وزیر دفاع ہیں۔کابل میں ہوئی اس بات چیت کے چند دن بعد یہ تقرر کیا گیا ہے۔ طالبان کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور شیرمحمد عباس ستانک زئی نے کامل کے تقرر کا ایکس پر اعلان کیا۔ کامل نے 7 سال تک ہندوستان میں تعلیم حاصل کی ہے وہ دہلی میں جنوبی ایشیا کی ایک یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کررہے ہیں۔
وزارت خارجہ نے انہیں اسکالرشپ فراہم کی ہے، ان کا تعلق ممبئی سے ہے اور وہ پہلے سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ہندوستان نے کوئی سرکاری ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ کامل کو ہندوستان میں افغان شہریوں کیلئے کام کرنے والے افغانستانی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
ایک ذریعہ نے بتایا کہ ایک نوجوان افغانی طالب علم جس سے وزارت خارجہ واقف ہے اور جس نے 7 سال تک ہندوستان میں تعلیم حاصل کی ہے، افغان قونصل خانہ میں سفارتکار کی حیثیت سے کام کرنے کیلئے تیار ہوگیا ہے۔ جہاں تک اس کے موقف کا سوال ہے ہمارے لئے وہ ایک افغان شہری ہے جو ہندوستان میں افغان شہریوں کیلئے کام کررہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔