تبدیلی آگئی ، تحریک انصاف پرانی تنخواہ پر کام کیلئے آمادہ

ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے حامی بلآخر حکومت سے مذاکرات پر آمادہ
حکومتی اتحادی تحریک انصاف کو سیف ایگزیٹ دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے
فیض حمید کی گرفتار ی کا صدمہ ہی کیا کم تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے تو پی ٹی آئی کی کمر ہی توڑ دی
آپ نے نو مئی کو وہ کیا جو کسی نے نہیں کیا،یہ سب فیض حمید کو بچانے کے ہتھکنڈے ہیں،حکومتی موقف
حالات کا تقاضا ہے کہ ملکی ترقی کے لئے تحریک انصاف کو ساتھ لے کر چلا جائے ،صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو بھولا نہیں کہتے

اسلام آباد(رپورٹ :محمدرضوان ملک)تحریک انصاف کے لئے فیض حمید کی گرفتاری اور ان پر فرد جرم عائد کئے جانے کا صدمہ ہی کیا کم تھا کہ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کو سویلین کے ٹرائل کی اجازت بھی دے دی۔حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وہی تحریک انصاف جو اسٹیبلمشمنٹ کے علاوہ کسی اور سے کسی صورت بات کرنے پر آمادہ نہ تھی حکومت سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہی ہے لیکن اب حکومت اسے لفٹ نہیں کرارہی۔
بانی پی ٹی آئی کے علاوہ اب دیگر پارٹی رہنمائوں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات ہی سے ممکن ہے حتٰی کہ سخت گیر رہنماء سردار لطیف کھوسہ اور سلمان اکرم راجہ بھی اب مذاکرات کے حامی ہیں۔
اس معاملے میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں کو پی ٹی آئی سے گلہ ہے اور ان کا گلہ بجا بھی ہے،خواجہ آصف اور دیگر لیگی رہنمائوں کا موقف ہے کہ عمران بذات خود ایک غیر ذمہ دار اور دوغلے شخص ہیں اور جب بات آگے بڑھتی ہے تو وہ مکر جاتے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی فیض حمید کی چارج شیٹ دیکھ کر گھبرا گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی گھبراہٹ میں پی ٹی آئی حکومت کو مذاکرات کا جھانسہ دے رہی ہے تاکہ سزائوں سے بچا جا سکے اور فیض حمید کے ٹرائل پر کسی طرح اثر انداز ہوا جا سکے۔طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کی مذاکرات کی پیشکش میں نیک نیتی نظر نہیں آرہی۔
اسی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ وہ مذاکرات کے معاملے پر حکومت کا رویہ دیکھ کر حیران ہیں۔بانی پی ٹی آئی کی جانب سے پارٹی لیڈرشپ سے ناراضی کے سوال پرعلی محمد خان نے کہا کہ کل یا پرسوں بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں بانی پی ٹی آئی کو اگر کوئی تحفظات ہوئے تو اس ملاقات میں ان تک پہنچ جائیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کس منہ سے معافی مانگنے کی بات کرتے ہیں معافی تو آپ کو مانگنی چاہیے۔سینیٹ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آپ نے سول نافرمانی کی کال دے رکھی ہے اور کہتے ہیں بات چیت کریں، کوئی نہیں چاہتا جو آپ نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں کیا وہ پاکستان کی سڑکوں پر ہو۔پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر چاہتے ہیں کہ جمہوریت اور بنیادی حقوق کا دور بحال ہو تو پہلے آپ کو غیر جمہوری کارروائیوں کا راستہ روکنا ہوگا۔
تاہم وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے تحریک انصاف کے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے لیے راضی ہونے کی تعریف کی ہے۔جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سیاسی جماعتوں سے بات چیت کو تیار ہیں تو یہ اچھا فیصلہ ہے۔انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر کہا کہ ان پر متعدد کیسز ہیں اور وہ حکومت کی نہیں جوڈیشل کسٹڈی میں ہیں ، وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا آرڈر جاری نہیں کرسکتے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما سردار لطیف کھوسہ نے کہا بالآخر مسائل کا حل مذاکرات میں ہی ہے، ہم تمام مقتدر حلقوں کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی کہا تھا کہ ہم ہر ایک سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مذاکرات اچھی بات ہے مگربانی پی ٹی آئی دن میں کئی رنگ بدلتے ہیں ان کی گارنٹی کون دیگا؟اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جن ہلاکتوں کی بات کرتی ہے ان کی تعداد 12 سے 278 بتائی جاتی ہے لیکن رہنما کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماں سے رینجرز اورپولیس کی شہادتوں کا اعتراف درکنار ذکر بھی نہیں ہوتا، یہ دوغلا پن اوردوہرا معیار پی ٹی آئی کی شناخت اور کلچر ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کے معاملے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان کے مذاکرت چند دن پہلے تک صرف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ حلال تھے اور حکومت کے ساتھ حرام تھے۔
اس حوالے سے بیشتر سیاسی و سماجی رہنمائوں کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی اگر مذاکرات پر آمادہ ہے تو اسے سیف ایگزیٹ دینا چاہیے کیونکہ ملک کو جس طرح کے مسائل درپیش ہیں ان کا حل تمام سیاسی جماعتوں کے ایک صفحے پر آنے سے ہی نکلے گا۔ کیونکہ صبح کا بھولا اگر شام کو واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔