پرویز مشرف نے ملک کے تمام اضلاع اور ریجنز میں بڑے جلسے کرنے کی ہدایت کر دی

آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین سید پرویز مشرف کا پارٹی کے نومنتخب عہدیداران اور مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب

اجلاس دوبئی میں مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں آل پاکستان مسلم لیگ کے نو منتخب عہدیداروں اور مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان سمیت اے پی ایم ایل کے بیرون ممالک چیپٹرزسے بھی اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں پارٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد، اے پی ایم ایل الیکشن کمیشن کے چئےرمین سید فقیرحسین بخاری اور دیگر بھی موجود تھے۔

اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا اور 2018کے انتخابات کے حوالے سے روڈ میپ طے کیا گیا۔اجلاس کے شرکاءسے پارٹی سربراہ سید پرویز مشرف نے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں انہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات پر خوشی اور اطمنان کا اظہار کیا۔انہوں نے پارٹی عہدیداران کو چین آف کمانڈ کی پیروی کرنے اور ملک کے تمام اضلاع اور ریجنز میں بڑے جلسے کرنے کی ہدایت کی۔

سید پرویز مشرف نے کہا کہ موجودہ حالات میں سے تین قسم کی صورتحال جنم لے سکتی ہے۔ ایک یہ کہ موجودہ حکومت کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کروائے جائیں، دوسرے قومی حکومت تشکیل دی جائے اورتیسری صورتحال مارشل لاءکے نفاذ کی ہے جو کہ ممکن نہیں۔ فوری انتخابات اور مارشل لاءکے امکانات بہت کم ہیں تا ہم قومی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی حکومت اگر سیاسی جماعتوں کو ملا کر بنائی جاتی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں البتہ اگر یہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوتی ہے تو یہ ملک کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نسلی بنیادوں پر سیاست ہو رہی ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ ہمیں قومی سطح کی ایک ایسی جماعت متعارف کروانی ہے جو نسل،زبان اور علاقائیت وغیرہ سے بالاترہو۔اس مقصد کے لئے کراچی ایک بہترین جگہ ہے جہاں پر پاکستان کی تمام نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔کراچی میں ایک بہت بڑا خلاپیدا ہوچکا ہے جسے ہم سیاسی اتحاد قائم کر کے پر کریں گے۔