معروف سینئر اداکار طویل عرصے سے علیل اور نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے
84 سالہ سنئیر اداکار اتوار کی صبح خالق حقیقی سے جاملے، انتقال کی خبر بیٹی نے دی

کراچی:ڈراموں، فلموں، ریڈیو اور تھیٹر کے معروف ہر دلعزیز اور ایوارڈ یافتہ سینئر اداکار طلعت حسین کراچی میں انتقال کر گئے ہیںان کی عمر 84 سال تھی ۔ طلعت حسین کافی عرصے سے علیل اور کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے سوگواروں میں 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔طلعت حسین طویل العمری سمیت دیگر طبی پیچیدگیوں کے باعث کچھ سالوں سے اسکرین سے دور رہوگئے تھے ۔
طلعت حسین 1940میں بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے ان کی عمر 84 سال سے زائد تھی اور انہوں نے فنون لطیفہ کو نصف صدی دی ہے، یعنی انہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ اداکاری، صداکاری، آرٹ اور فن کو دی۔طلعت حسین نے 1970 سے قبل کم عمری میں ہی اداکاری شروع کردی تھی لیکن انہیں 1970 کے بعد شہرت ملنا شروع ہوئی۔
اداکاری میں قدم رکھنے کے چند سال بعد ہی طلعت حسین اداکاری کی اعلی تعلیم حاصل کرنے لندن چلے گئے اور وہاں بھی انہوں نے اسٹیج و تھیٹر پر کام کرنے سمیت نشریاتی اداروں کے ساتھ بھی کام کیا۔لندن سے واپسی کے بعد انہوں نے ایک بار پھر اداکاری کا آغاز کیا اور انہوں نے گزشتہ 5 دہائیوں میں پی ٹی وی کے درجنوں ڈراموں میں شاندار کردار ادا کیے۔
قبل ازیں 3 فروری کو سینیئر اداکار طلعت حسین کی صاحبزادی اداکارہ تزئین حسین نے بتایا تھا کہ ان کے والد کی طبیعت بہتر ہونے لگی اور اب ان کے والد پہلے سے بہتری محسوس کر رہے ہیں۔30 جنوری کو اداکار فیصل قریشی اور ان کی اہلیہ ثنا قریشی نے تصدیق کی تھی کہ سینئر اداکار طلعت حسین ڈیمینشیا کا شکار ہیں۔26 جنوری کو اداکار طلعت حسین زائد العمری سمیت دیگر پیچیدگیوں کے باعث شدید علیل ہوگئے اور اہل خانہ نے بتایا تھا کہ ان کی ذہنی حالت بھی انتہائی بگڑ چکی ہے۔
طلعت حسین نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا جب کہ انہوں نے اسٹیج تھیٹرز میں بھی جوہر دکھائے اور کئی منصوبوں میں وائس اوور بھی کی، طلعت حسین کے مقبول ڈراموں میں ہوائیں، کشکول، طارق بن زیاد اور دیگر شامل ہیں۔انہوں نے قائد اعظم محمد علی جنا ح پر بننے والی ایک بین الاقوامی فلم میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے
صدر کراچی آرٹس کونسل احمد شاہ کے مطابق طلعت حسین کافی روز سے نجی اسپتال کے آئی سی یو میں داخل تھے، وہ شروع سے ہی آرٹس کونسل کراچی کے رکن رہے ہیں اور وہ آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی میں بھی شامل تھے۔احمد شاہ نے کہا ہے کہ مرحوم طلعت حسین ایک بہترین انسان اور زبردست آرٹسٹ تھے، انہوں نے متعدد ملکی و غیرملکی فلموں اور ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
پاکستان شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد نے سینئر اداکار کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اداکارہ بشری انصاری نے بھی انسٹاگرام پر اداکار کے انتقال کی خبر شیئر کی اور گہرے دکھ کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ طلعت حسین بہت نفیس آدمی تھے وہ اپنے صحت کے حوالے سے بھی بہت محتاط رہتے تھے اور اس وقت بھی اپنا پانی ساتھ رکھتے تھے اور عام پانی سے پرہیز کرتے تھے۔
طلعت حسین نے ماہر تعلیم پروفیسر رخشندہ حسین سے شادی کی تھی اور وہ تین بچوں کے والد تھے جن میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔
لندن سے تعلیم حاصل کرنے والے طلعت حسین نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) سے اداکاری کا آغاز کیا جنہوں نے بعدازاں برطانوی ٹی وی سمیت بالی وڈ فلموں میں بھی کام کیا۔
سینئر اداکار کو 2021 میں ستارہ امتیاز (اسٹار آف ایکسیلنس) اور 1982 میں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔انہیں 2006 میں نارویجن فلم ‘امپورٹ ایکسپورٹ’ میں بہترین معاون اداکار کے لیے امانڈا ایوارڈ اور فلم ‘مس بینکاک’ میں بہترین معاون اداکار کے لیے 1986 میں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



