ساتھی ججوں کی رائے مسترد، کرتے ہوئے چیف جسٹس نے آنے والے 3 ججز کو بنیچ کا حصہ بنایا
ٹرانسفر ہوکر آنے والے جج نے پیر کو اپنی اپنی عدالت میں سماعت بھی کی،سرفراز ڈوگر کو محسن کیانی کی جگہ بنچ تین ڈکلئیر کر دیا گیا

اسلام آباد:دیگر تین ہائی کورٹس سے آنے والے ججز اسلام آباد ہائی کورٹ کا حصہ بن گئے ہیں اور انہوں نے مقدمات کی سماعت بھی شروع کر دی ہے ۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ساتھی ججز رائے مسترد کر دی ہے جس میں انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دیگر ہائیکورٹس سے ٹرانسفر ہو کر آنے والے ججز کو بنچ کا حصہ نہ بنائیں۔ تاہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فارق نے خط لکھنے والے پانچ ساتھی ججوں کی رائے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے پاکستان کی تین دیگر ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہونے والے تین ججوں کے نام نئے ہفتے کی کاز لسٹ میں شامل کر لیے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے تبادلے کے بعد آنے والے 3 ججز کے بینچ کا روسٹر جاری کر دیا ۔
رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جسٹس سرفراز ڈوگر کو بینچ 2 ڈیکلیئر کر دیا گیا جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی بینچ 3 تیسرے نمبر کے جج ہوں گے۔
سندھ ہائیکورٹ سے آنے والے جسٹس خادم حسین سومرو کا بینچ 9 اور بلوچستان ہائیکورٹ سے آنے والے جسٹس محمد آصف کا بینچ 12 ہوگا ۔یاد رہے کہ ہائیکورٹ میں بینچ 2 سینیئر ترین جج ہوتا ہے۔اس سے قبل، جسٹس محسن اختر کیانی بیچ 2 میں تھے لیکن اب انہیں بینچ 3 دیکلیئر کر دیا گیا جبکہ جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم حسین سومرو کا ڈویژن بینچ ہوگا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ترمیم شدہ ہفتہ وار روسٹر جاری کرنے کی منظوری دی اور اس کام کے لئے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اور رٹ برانچ کا تمام عملہ اتوار چھٹی کے دن بھی عدالت میں موجود رہا جبکہ دیگر ہائیکورٹس سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہوکر آنے والے جج نے پیر کو اپنی اپنی عدالت میں سماعت بھی کی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل، اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججوں نے چیف جسٹس اور مذکورہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کو خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں باہر سے ججوں کی تعیناتی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر جج جسٹس محسن اختر کیانی سمیت دیگر ججز نے مشترکہ طور پر خط میں کہا تھا کہ دوسری ہائی کورٹ سے جج نہ لایا جائے اور نہ چیف جسٹس بنایا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ سے ہی تین سینیئر ججوں میں سے کسی کو چیف جسٹس بنایا جائے۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ کیا اعلی عدلیہ کے جج صاحبان نے آئین پاکستان کی پاسداری اور تحفظ کا حلف نہیں اٹھایا ہوا، آئین کے آرٹیکل 200 کے مطابق صدر مملکت ہائیکورٹ کے کسی بھی جج کا تبادلہ ایک سے دوسری ہائیکورٹ میں کرسکتے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے سوال کیا کہ کیا اعلی عدلیہ کے تمام جج صاحبان نے آئین پاکستان کی پاسداری اور تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے؟ اگر ہاں تو کیا آرٹیکل 200 آئین پاکستان کا حصہ نہیں؟۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 200 کہتا ہے کہ صدر مملکت ہائیکورٹ کے کسی بھی جج کا تبادلہ ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ میں کرسکتا ہے لیکن اس کے لیے متعلقہ جج کی مرضی نیز چیف جسٹس پاکستان اور دونوں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت ضروری ہے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے سوال اٹھایا کہ اس واضح آئینی شق کو ترجیح دیں یا کسی خط کو؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



