بنک سٹیمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں ، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

ٹیکس حکام غیر مصدقہ معلومات یا اندازوں کی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے
محض شک یا قیاس آرائی کی بنیاد پر نوٹس جاری کرنا خلاف قانون اورصرف رقم کی منتقلی کو آمدن قرار دینا قانون کے دائرے سے باہر ہے

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)عدالت عظمی (سپریم کورٹ ) نے قراردیا ہے کہ کسی شخص کی بنک اسٹیٹمنٹ اس کی آمدن کا ثبوت نہیں ہے،عدالت نے قرار دیا ہے کہ محض بینک اسٹیٹمنٹ کو آمدن کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا اور ٹیکس حکام غیر مصدقہ معلومات یا اندازوں کی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے۔
فیصلہ بدھ کو چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا، دو رکنی بنچ میں شامل جسٹس شفیع صدیقی نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے اسلام آباد کے رہائشی کے خلاف کی گئی ازسرنو ٹیکس تشخیص کی کارروائی کو غیرقانونی قرار دے دیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مالی لین دین کا ریکارڈ خودبخود قابلِ ٹیکس آمدن نہیں بنتا، اور صرف رقم کی منتقلی کو آمدن قرار دینا قانون کے دائرے سے باہر ہے۔عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ ہر ٹیکس کارروائی کے لیے شفاف، واضح اور قابلِ اعتماد ثبوت ہونا ضروری ہے، محض شک یا قیاس آرائی کی بنیاد پر نوٹس جاری کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ایف بی آر کو ایسی معلومات پر کارروائی کا اختیار صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ معلومات ٹیکس قابل آمدن سے براہِ راست تعلق رکھتی ہوں
درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مقف اختیار کیا تھا کہ ایف بی آر نے خدادا د ہائٹس اسلام آباد کے خلاف کارروائی میں بینک اسٹیٹمنٹ کو آمدن قرار دے کر نظرثانی کی کارروائی شروع کی جو آئین و قانون کے منافی ہے۔عدالت نے ایف بی آر کے مقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بینک اسٹیٹمنٹ، جب تک اس سے کوئی ٹھوس تجارتی سرگرمی یا آمدن کا واضح ثبوت نہ ہو، قانونی طور پر ٹیکس کارروائی کا جواز نہیں بن سکتی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس قوانین کا غلط استعمال شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے ایف بی آر کو اپنی کارروائیوں میں شفافیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔