چینی صدر شی جن پنگ 3 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

دونوں ممالک کے درمیان 110 ارب ریال کے دو طرفہ معاہدے ہوں گے،امریکہ کا چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر اظہار تشویش


ریاض:چین کے صدر شی جن پنگ سعودی عرب کے 3 روزہ دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ چینی صدر کا یہ دورہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پر ہورہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 110 ارب ریال کے معاہدے ہوں گے۔
عرب نیوز کے مطابق چینی صدر کے دورے کے دوران 3 سربراہی اجلاس منعقد ہوں گے، جن میں سعودی چینی سربراہی اجلاس، ریاض خلیج چین سربراہی اجلاس برائے تعاون اور ترقی، اور ریاض عرب چین سربراہی اجلاس برائے تعاون اور ترقی شامل ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، شرکا میں دونوں ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے 30 سے زائد رہنما اور عہدے دار شامل ہوں گے، جو اجتماعات کی اہمیت اور ان کے اعلی علاقائی اور بین الاقوامی پروفائل کو اجاگر کریں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان 20 سے زائد ابتدائی معاہدوں پر، جن کی مالیت 110 ارب ریال (29.3 ارب ڈالر) سے زیادہ ہے، ایک اسٹریٹجک پارٹنرشپ ڈیل کے ساتھ دستخط کیے جائیں گے، سعودی عرب کے وژن 2030 کی ترقی اور تنوع کے منصوبے کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے ایک منصوبے پر بھی دستخط ہوں گے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر ائیرپورٹ پر شی جن پنگ کا استقبال کیا، جہاں طیارے کی سیڑھیوں سے رسمی جامنی رنگ کا قالین بچھایا گیا۔
سعودی عرب سب سے زیادہ تیل چین کو فروخت کرتا ہے، معاشی بحران اور جیو پالیٹیکل کی موجودہ صورتحال میں دونوں طرف سے اس معاملے پر تعلقات میں مزید وسعت کا امکان نظر آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چینی صدر کوویڈ کی عالمی وبا شروع ہونے کے بعد تیسرا غیرملکی دورہ ہوگا، شی جن پنگ کا 2016 کے بعد پہلی مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔
اس دورے میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ 6 رکنی خلیج تعاون کونسل کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس اور ایک وسیع تر چین-عرب سربراہی اجلاس بھی ہوگا۔
دوسری طرف واشنگٹن نے بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔شی جن پنگ سے متعلق سوال پر وائٹ ہاس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کیربی نے صحافیوں کو بتایا کہ سعودی عرب اب بھی امریکا کا اہم اتحادی ہے لیکن چین کے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
جان کیربی کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ بہت سی چیزیں جن کی وہ پیروی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جس طریقے سے وہ اس کی پیروی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بین الاقوامی قوانین پر مبنی ترتیب کو برقرار رکھنے کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن ممالک سے توقع نہیں رکھتا کہ وہ 2 پاورز کے درمیان انتخاب کریں۔
سعودی عرب کے توانائی کے وزیر شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے بتایا تھا کہ عالمی تیل کی منڈی میں سعودی عرب چین کا قابل اعتماد شراکت دار رہے گا۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے نے عبدالعزیز بن سلمان کے حوالے سے بتایا تھا کہ دونوں ممالک توانائی کی سپلائی چین میں تعاون کی وسعت دینے کی بھرپور کوشش جاری رکھیں گے اور اس کے لیے سعودی عرب میں چین کی فیکٹریوں کے لیے علاقائی مرکز قائم کریں گے۔ایس پی اے نے بتایا کہ چین کی جانب سے عرب ممالک میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں سلطنت کے اندر کی جانے والی سرمایہ کاری میں 20 فیصد سے زیادہ حصہ ہے، یہ خطے کے کسی دیگر ملک سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیل کی مارکیٹوں کے حوالے سے گفتگو دو طرفہ مذاکرات میں اہم ہوگی، خاص طور پر روس کی جانب سے یوکرین میں جنگ مسلط کرنے کے بعد سے آئل مارکیٹ میں ہنگامہ خیزی ہے۔
یاد رہے کہ 6 دسمبر کو جی7 ممالک نے روس کو یوکرین جنگ کے لیے مالی نقصان پہنچانے کی غرض سے روسی تیل پر مارکیٹ کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل کی پرائس کیپ نافذ کرد تھی۔
امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تازہ مخاصمت اکتوبر میں سامنے آئی جب روزانہ بنیاد پر اوپیک پلس نے 20 لاکھ بیرل تک محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کو واشنگٹن نے یوکرین جنگ کے دوران روس کی حمایت سے تعبیر کیا تھا۔
امریکا دوسری جنگ عظیم کے آخری اختتام کے بعد سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو تیل کی شراکت داری سلامتی کے لیے قرار دیتا ہے۔دوسری طرف واشنگٹن نے بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔