سپیکر نے کورم کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کر دیا تھا تاہم پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر حلف برداری ہوگئی
خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اڑھائی گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا اور کورم کی نشاندہی پرکچھ دیر بعد ہی ملتوی کر دیا گیا
اسلام آباد/ پشاور(رپورٹ:محمد رضوان ملک)کے پی اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے 25 ارکان اسمبلی بالاآخر حلف اٹھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر گورنر کے پی کے نے ان سے حلف لیا. قبل ازیں وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری کے حوالے سے منعقدہ پختونخوا اسمبلی کا اجلاس کورم کی نشاندہی پر 24 جولائی تک ملتوی کردیا گیاجس پر اپوزیشن نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے لئے درخواست پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرادی تھی.
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین کی بھرپور شرکت تھی جبکہ پی ٹی آئی اراکین کو اسمبلی ہال نہ پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو اپویشن اراکین کی جانب سے شور شرابا کیا گیا جبکہ خواتین اراکین اسمبلی کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر کے پی اسمبلی ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا تھا ایسا کب تک چلے گا، ایک سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے لیکن اراکین سے حلف نہیں لیا جا رہا، اگر اسپیکر حلف نہیں لے گا تو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے پاس درخواست لیکر جائیں جو اراکین سے حلف لیں گے۔
اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شیر علی آفریدی کی جانب سے ایوان میں کورم کی نشاندہی کر دی گئی جس پر اسمبلی اراکین کو ایوان میں آنے کے لیے گھنٹیاں بجانا شروع کر دی گئیں۔گھنٹیاں بجنے کے باوجود حکومتی اراکین ایوان میں نہ پہنچے جس پر اسپیکر کے پی اسمبلی نے اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کر دیا اور اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ا ن کا کہنا تھا کہ جب اجلاس ہوگا تو حلف برداری کی کارروائی بھی ہوگی۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا جب اسمبلی اجلاس ہوگا تو حلف برداری کی کارروائی بھی ہوگی، ایوان کے اندر جائیں گے تو تب ہی کورم کا پتہ چلے گا۔ حلف برداری ہونے سے متعلق سوال پر اسپیکر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کبھی نہ کبھی تو ہوگی۔
قبل ازیں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کے پی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یا د رہے کہ کے پی اسمبلی میں مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو نہ دئیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے صوبائی حکومت کے پی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا رہی تاکہ مخصوص نشستیں دوسری سیاسی جماعتوں کو نہ مل سکیں اور معاملہ التواء کا شکار رہے۔ جس کی وجہ سے مخصوص نشستوں پر آنے والے 25 اراکین اسمبلی کی حلف برداری تاحال نہیں ہوسکی ہے۔
تاہم گزشتہ روز حکومت کی جانب سے اجلاس ملتوی کرنے کے بعد اپوزیشن ارکان پشاور ہائی کورٹچلے گئے اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے حلف برداری کیلئے گورنر کو نامزد کردیا.
اس طرح گورنر ہا وس میںگورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ان ارکان اسمبلی سے حلف لیا۔ تقریب حلف برداری گورنر ہاؤس میں ہوئی۔
جے یو آئی کی 7 خواتین اور 2 اقلیتی ارکان، مسلم لیگ ن کی 7 خواتین اور ایک اقلیتی رکن نے حلف اٹھایا۔ پیپلزپارٹی کی 4 خواتین اور ایک اقلیتی رکن اور اے این پی کی 2 اور پی ٹی آئی پی کی ایک خاتون حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں 145 اراکین کی تعداد مکمل ہوگئی۔



