چین گذشتہ سات سالوں سے پاکستان کا براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ اورپچھلے چھ سالوں میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے

اسلام آباد(شِنہوا)چینی صدر کے دورہ پاکستان کے چھ سال مکمل ہونے پر آج چین کی مدد سے پاکستان جس قدر تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے یہ دنیا کے لئے ایک عمدہ مثال ہے۔ چین گذشتہ سات سالوں سے پاکستان کا براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ اورپچھلے چھ سالوں میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
سینکڑوں سالوں سے، قراقرم کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ چین اور پاکستان کی دو قدیم تہذیبوں کے مابین کبھی بھی رکاوٹ نہیں رہا بلکہ یہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین ہمیشہ سے قائم گہری دوستی کا شاہد ہے۔
بلندو بالا اور گہری گھاٹیوں پر مشتمل ان پہاڑوں نے 2015 میں دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تبادلوں کی ایک نئی بلندی کا اس وقت مشاہدہ کیا جب چین کے صدرشی جن پھنگ کے طیارے نے دورہ پاکستان کے لئے ان کے اوپر سے اڑان بھری۔
دورے کے دوران ، دونوں ممالک نے اپنی سدابہار حکمت عملی پر مبنی شراکت داری کو مضبوط بنایا اور مستقبل کی دو طرفہ ترقی کے لئے اسٹریٹیجک انتظامات اور ایک طویل مدتی منصوبے کا خاکہ تیار کیا۔
چھ سال بعد چینی صدر کے نتیجہ خیز دورے کے فوائد جنوبی ایشیا کے اس ملک کے کونے کونے میں ترقی کی منازل طے کررہے ہیں۔ہم نصیب مستقبل کی حامل چین پاکستان کمیونٹی حقیقت کا روپ دھار رہی ہے اور باقی دنیا کے لئے ایک عمدہ مثال قائم کررہی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ 2015 میں پاکستان دہشت گردی سے شدید متاثرتھا اوردنیا کے چند ممالک ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر تیارتھے اورہمارا ملک معاشرتی استحکام کے لئے معاشی ٹیک آف کرنے کا منتظر تھا۔
چینی صدر نے اپنے دورہ پاکستان سے قبل شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا تھا کہ چین اور پاکستان کو اپنے عوام کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے ترقیاتی حکمت عملی کودرست سمت میں متعین کرنے کی ضرورت ہے۔
اس دورے کے دوران دونوں مماک نے 50سے زیادہ تعاون کے معاہدات پر دستخط کئے اورگوادر پورٹ ، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر ، توانائی اور صنعتی تعاون جیسے چار اہم شعبوں کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کی ترقی کو مرکز بنانے پر اتفاق کیا۔
سی پیک کا منصوبہ اب ایک حقیقت کا روپ دھار چکاہے۔ کوئلے سے چلنے والے تین بڑے بجلی گھر دنیا کی بہترین ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ساتھ پیدوار شروع کرنے کے بعد سے اب تک71 ارب50کروڑکلوواٹ فی گھنٹہ سے زیادہ بجلی پیدا کرچکے ہیں جن سے ملک میں ہونے والی اوسطا 12 گھنٹے بجلی کی یومیہ بندش کا دور ختم ہوگیا ہے۔
پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا کہ 2020 میں ، سی پیک کے توانائی منصوبوں نے قومی گرڈ میں شامل ہونیوالی بجلی کا تقریبا ایک تہائی پیدا کیا۔زیر تعمیر کیروٹ اور سکی کناری سمیت پن بجلی کے طے شدہ منصوبوں کی مدد سے مستقبل قریب میں پاکستان کے توانائی کے ڈھانچے میں مزید بہتری آئے گی۔
سی پیک نے مواصلاتی رابطے کو بھی فروغ دیا ہے۔ سکھر ملتان موٹر وے کے طویل ترین انفراسٹرکچر پروجیکٹ کے ساتھ قراقرم ہائی وے فیز ٹو نے ملک کے مرکز کو دور دراز کے شمالی خطے اورجنوب کے مالیاتی مرکز سے منسلک کر دیا ہے۔ پاکستان کے ثقافتی مرکز لاہور میں ماحول دوست اورنج لائن میٹرو ٹرین نے 6 ماہ کے اندر ایک کروڑ سے زیادہ مسافروں کو خدمات فراہم کیں۔
صدر عارف علوی نے کہا کہ بحیرہ عرب اور مشرق وسطی کے بالمقابل واقع دوبارہ فعال ہونے والی گوادر بندرگاہ نے افغان ٹرانزٹ کارگوکا خیرمقدم کرتے ہوئے خطے میں سامان کی نقل و حمل کو آسان بنانے اور پاکستان کو خطے میں ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے میں مدد فراہم کی۔ ایک نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ساتھ اس ایئرپورٹ کو نو تعمیر شدہ فری ٹریڈ زون سے منسلک کرنے والی ساحلی ایکسپریس وے کے ساتھ گوادر پاکستان میں ایک "نیا دبئی بننے کے کی طرف گامزن ہے۔
پاکستان میں چینی سفارت خانے کے مارچ میں جاری شدہ عداد و شمار کے مطابق ، افتتاح کے بعد سے سی پیک سے پاکستان میں 25 ارب40کروڑ امریکی ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئی اور75ہزار سے زیادہ مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
در حقیقت ، چین گذشتہ سات سالوں سے پاکستان کا براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا ذریعہ اورپچھلے چھ سالوں میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔



