کوئٹہ: پسند کی شادی پر جوڑے کو بے دردی سے قتل کرنے والے 11 ملزمان گرفتار

وہ نہتی اور تمہارے ہاتھوں میں اسلحہ ،وہ اکیلی اور تم جھرمٹ میں کیا یہی غیرت ہے ، عظمیٰ بخاری
مردوں کے جھرمٹ میں اکیلی لڑکی پرسکون انداز میں گاڑی سے نکلتی اور دلیرانہ انداز میں موت کا استقبال کرتی ہے
اس سے بڑی منافقت اور بے غیرتی کیا ہوگی کہ آپ ایک نوبیاہتا جوڑے کو دھوکے سے دعوت کے نام پر بلائیں اور پھر مکاری سے قتل کر دیں
مقتولہ نے کسی سے زندگی کی بھیک مانگی نہ موت سے بچنے کیلئے بھاگنے کی کوشش کی ،غیرت کے نام پر درجنوں مسلح افراد نے ایک نہتی لڑکی کی بے غیرتی سے جان لے لی

کوئٹہ ( رپورٹ:محمدرضوان ملک)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے میں پسند کی شادی پر بے دردی سے جوڑے کو قتل کرنے والے 11 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وزیراعلی بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کی گئی پوسٹ میں بتایا کہ اب تک 11 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، آپریشن جاری ہے، تمام ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مبینہ طور پر عیدالاضحی کے آس پاس پیش آیا اور اسے غیرت کے نام پر قتل قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں چند افراد کو ایک خاتون کو قتل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جن پر بظاہر محبت کی شادی کرنے کا الزام تھا۔اس موقع پر اس خاتون کے شوہر کو قتل کیا گیا ، خاتون جسے علم تھا کہ اسے قتل کرنے کے لئے لے جایا جارہا ہے ،بڑے پرسکون انداز سے گاڑی سے اترتی ہے اور مردوں کے جنڈ میں چلتی ہوئی وہ شیرنی بڑی دلیرانہ انداز سے موت کو گلے لگاتی ہے اسے معلوم ہے کہ اسے قتل کرنے کیلئے لے جایا جارہا ہے اس نے نہ تو کسی سے اپنی زندگی کی بھیک مانگی اور نہ موت سے بھاگنے کی کوئی کوشش کی اور دلیرانہ انداز میں موت کو گلے لگایا ۔یوں غیرت کے نام پر درجنوں مسلح افراد نے ایک نہتی لڑکی کی بے غیرتی سے جان لے لی ۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلی سرفراز بگٹی کی ہدایت پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد لیویز اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ایک مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔حکام کے مطابق یہ مقدمہ بلوچستان حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت درج کیا گیا کیونکہ علاقے کے کسی بھی فرد، بشمول مقتولین کے رشتہ داروں یا مقامی لوگوں نے لیویز یا سی ٹی ڈی کو کوئی درخواست نہیں دی۔
اطلاعات کے مطابق مقتولین احسان سمالانی اور بانو ستک زئی نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی جس پر ان کے خاندان ناراض تھے، معاملہ علاقے کے بزرگوں کے پاس لے جایا گیا جنہوں نے موت کی سزا سنائی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جوڑے کو عید سے قبل ایک دیہی علاقے ڈگری میں کھانے کی دعوت پر بلایا گیا اور بعد میں انہیں ایک ویران مقام پر لے جایا گیا جہاں انہیں بزرگوں کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔
اس سے بڑی منافقت اور بے غیرتی کیا ہوگی کہ آپ ایک نوبیاہتا جوڑے کو دھوکے سے دعوت کے نام پر بلائیں اور پھر مکاری سے قتل کر دیں،نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ کوئی مہذب معاشرہ
قتل سے قبل مقتولہ نے قاتلوں سے براہوی زبان میں کہا کہ تمہیں مجھے گولی مارنے کی اجازت ہے، لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اس نے یہ بھی کہا کہ اسے سات قدم چلنے دیا جائے، جس کے بعد اسے مبینہ طور پر اس کے بھائی نے 3 گولیاں مار کر قتل کیا اور پھر اس کے شوہر کو بھی قتل کر دیا گیا۔لاشیں تاحال برآمد نہیں ہو سکیں جس سے تفتیش مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
یہ ویڈیو غالبا عیدالاضحی سے کچھ دن پہلے بنائی گئی تھی، حکام ان باقی ماندہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں جن کی شناخت ہو چکی ہے، تاہم ان کے نام فی الحال ظاہر نہیں کیے گئے۔بیان کیا جاتا ہے کہ گولی چلانے والے مقتولہ کے منافق بھائی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پنجا ب کی وزیر اطلاعات عظمی ٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا وہ نہتی اور تمہارے ہاتھوں میں اسلحہ ،وہ اکیلی اور تم جھرمٹ میں کیا یہی غیرت ہے ، بلاول بھٹو نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس قراردیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بندوق اٹھا نے والے پہلے اپنے ارد گرد موجود ان ظالموں کے خلاف کیوں حرکت میں نہیں آتے۔