
وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل (پی آئی بی ٹی) کو ریل نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لئے فزیبیلیٹی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ انہوں نے یہ ہدایت ریلوے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی جس میں چیئر پرسن پاکستان ریلویز مسز پروین آغا، چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد جاوید انور، مشیر وزارت ریلوے انجم پرویز، ایڈیشنل جنرل منیجر انفراسٹرکچر ہمایوں رشید، ممبر فنانس فیصل اسماعیلی اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ اس موقعے پر مینیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ریلوے فریٹ کمپنی ظفرزمان رانجھا نے ریلوے کی مین لائن سے پی آئی ٹی بی کو منسلک کرنے کے حوالے سے تین مختلف لائنوں کے قیام کے بارے بریفنگ دی اور ان لائنوں کے قیام میں مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کوئلے، کلنکر اور سیمنٹ کی ترسیل کے لئے پاکستان کے پہلے ٹرمینل سے ریلوے نیٹ ورک کو منسلک کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کو مسلم لیگ کی حکومت نے چار سال کے عرصے میں دو سو پچاسی ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پی آئی ٹی بی ہی نہیں بلکہ چالیس، پینتالیس برسوں سے زیر تعمیر لواری ٹنل جیسے منصوبوں کو بھی مکمل کیا ہے اور ملک کی معیشت کو درست راستے پر گامزن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز کو انٹرنیشنل بلک ٹرمینل کے ساتھ منسلک کرنے سے ماحول دوست لاجسٹک سپلائی ممکن ہو گی۔ انہوں نے اس سلسلے میں ریلوے حکام کو ہدایت کی کہ وہ پورٹ قاسم اتھارٹی سے رابطے میں رہیں تاکہ تکنیکی سطح پر کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے ایک دوسرے اجلاس میں ریلوے کی سلیپر فیکٹریوں کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے بھی غور کیا اور اس سلسلے میں درپیش ٹیکنیکل ایشوز کو حل کرنے کی ہدایت کی۔




