
لاہور…نورالعارفین
لاہور پولیس کے نوئے فیصد سے ذائد اہلکاروں اور افسران نے اولیو گرین یونیفارم پر اپنے تحفظات کے بارے میں اگاہ کر دیا یونیفارم کے متعلق بننے والی فیڈ بیک کمیٹی کو تمام فیڈ بیک فارم موصول ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق اپریل دو ہزار سترہ میں سابق آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے اپنی ریٹائرمینٹ سے چند روز پہلے اولیو گرین یونیفارم کی منظوری دی جس میں سب سے پہلے لاہور پولیس کو اولیو گرین یونیفارم پہنائی گئی پنجاب پولیس کے بیشتر افسران کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت بھی کی گئی لیکن مشتاق احمد سکھیرا نے کسی کی نہ سنی اور اس فیصلے کو مسلط کر دیا۔ وزیر اعلٰی پنجاب کی جانب سے اولیو گرین یونیفارم کا چھ ماہ بعد ریویو کرنے کے احکامات دیے گئے تھے جس پر سات ماہ بعد موجودہ آئی جی عارف نواز نے عملدرامد کرنے کے لیے سینئر پولیس افسران کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی۔
کمیٹی نے لاہور سمیت دیگر اضلاع میں اہلکاروں اور افسران کو فیڈ بیک فارم دیے جس میں یونیفارم کے بارے میں تاثرات لیے گئے، لاہور پولیس میں ستائس ہزار سے نفری کو فیڈ بیک فارم تقسیم کیے گئے جن میں سے پچیس ہزار چار سو دس افسران اور اہلکاروں نے اولیو گرین کلر اور یونیفارم کے کپڑے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ لاہور پولیس کی جانب سے اولیو گرین یونیفارم کو پنجاب کے موسم کی مناسبت سے آرام دہ نہ ہونا قرار دیا گیا۔ موٹا یونیفارم موسم گرما میں پہن کر ڈیوٹی کرنا ناگزیر قرار دیا گیا لاہور پولیس نے یونیفارم میں شامل ٹراوزر کو آرام دہ قرار دیا گیا لاہور پولیس نے اپنا فیڈ بیک آئی جی آفس کو بھجوا دیا ہے تاہم باقی اضلاع سے فیڈ بیک آنے کے بعد اس حوالے سے کمیٹی ختمی رپورٹ تشکیل دے گئی جس کے بعد یونیفارم کو تبدیل کرنے کا ممکنہ فیصلہ بھی جلد کر لیا جائے۔



