
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ یادگار شہدا پر حاضری کے لیے روانہ ہوگئے،والدہ نے دعاؤں کے ساتھ گھر سے رخصت کیا ۔پولیس نے عزیزآباد اور عائشہ منزل کے قریب کنٹینرز لگا کر راستے سیل کردیے جبکہ رینجرز کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی۔سربراہ ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار نے آج عائشہ منزل سے یادگار شہدا تک مارچ کا اعلان کیا تھا جسے منسوخ کردیا گیا۔تاہم ایم کیوایم پاکستان کےرہنماوں نے عزیز آباد کراچی میں یاد گارایم کیو ایم شہدا پرحاضری کااعلان کر رکھا ہے۔یادگار شہدا پر حاضری سے قبل فاروق ستار کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرا ایک بیٹا ہے، پارٹی میں جانے سے منع کیا تھا لیکن وہ نہیں مانا، میرے بیٹے نے بہت قربانیاں دی ہیں۔اس موقع پر سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے میڈیا سے کو بتایا کہ وہ بہادر آباد جارہے ہیں، وہاں رابطہ کمیٹی کے اراکین موجود ہیں جن کو ساتھ لے کر قافلے کی صورت میں یادگار شہدا اور جناح گراؤنڈ جائیں گے۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے انہیں اجازت ملنے سے متعلق جو مسائل پیش آئے اس کی تفصیل بتائیں گے۔ادھرترجمان ایم کیو ایم پاکستان کے مطابق یادگار شہدا پر حاضری کے موقع پر پروگرام کو محدود کردیا گیا ہے اور اب عوام اور کارکن شریک نہیں ہوں گے۔



