اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیض آباد میں جاری دھرنا ختم کرنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیض آباد میں جاری مذہبی جماعت کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مذہبی جماعت کی پٹیشن دھرنا ختم کرنے سے مشروط ہوگی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ختم نبوت کی شقوں میں ردوبدل کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے متعلق درخواست پر سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ جب عدالت میں آگیا تو خدا کا خوف کریں دھرنا ختم کریں اور چیف جسٹس کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے ان پر معافی مانگیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کی پٹیشن دھرنا ختم کرنے سے مشروط ہو گی، نیکی کا کام غلط طریقے سے کیا جائے تو وہ غلط ہوتا ہے۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں تحریک لبیک کے وکیل سے کہا کہ آپ لوگ قانون کی پابندی کریں، دھرنا ختم کریں تا کہ عوام کی مشکلات ختم ہوں، دھرنے سے بچے، بوڑھے، ملازمین اور طالب علم متاثر ہو رہے ہیں۔

تحریک لبیک کے وکیل نے راجہ ظفر الحق کمیٹی کی پیش كردہ رپورٹ کو پبلک کرنے کی استدعاکی جبکہ عدالت نے مزید سماعت 29 نومبر تک کے لئے ملتوی کر دی۔