
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ستاروں کے درمیان واقع خلا سے نظامِ شمسی میں داخل ہونے والا سیارچہ ’خلائی مخلوق کا خلائی جہاز‘ ہو سکتا ہے۔
ابتدا میں سائنسدانوں کا خیال تھا کہ سگار سے مشابہت رکھنے والی یہ شے نظامِ شمسی سے باہر کسی اور ستارے کے نظام سے آنے والا سیارچہ ہے۔
تاہم خلائی مخلوق کی تلاش کے حوالے سے کام کرنے والے سائنسدانوں نے شک کا اظہار کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ خلائی مخلوق کا ’خلائی جہاز‘ ہو۔
تاہم سیٹی کے پراجیکٹ ’بریک تھرو لسن‘ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے ریسرچرز کا کہنا تھا کہ ‘اومُوامُوا’ کوئی خلائی جہاز ہو سکتا ہے۔ لیکن زیادہ امکان یہ ہے کہ حہ ایک قدرتی طور پر بننے والا سیارچہ ہے۔ تاہم یہ سیارچہ کس چیز سے بنا ہوا ہے اس پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔ بریک تھرو لسن ‘اومُوامُوا’ کے بارے میں ممید تحقیق کرے گا۔‘
پریک تھرو لسن کی ٹیم ویسٹ ورجینیا میں واقع گرین بینک ریڈیو ٹیلی سکوپ کے ذریعے ‘اومُوامُوا’ کا مطالعہ کرے گا
’12 دسمبر سے برطانیہ کے مقامی وقت شام آٹھ بجے یہ ریڈیو ٹیلی سکوپ ‘اومُوامُوا’ کو سننے کی کوشش کرے گا۔‘
بریک تھرو لسن زمین کے قریب دس لاکھ ستاروں اور ایک سو قریبی کہکشاؤں کا مشاہدہ کرے گی تاکہ خلائی مخلوق کی موجودگی کے بارے میں معلوم کر سکے۔
سیٹی نے 60 کی دہائی سے 98 پراجیکٹ کیے ہیں اور کسی بھی پراجیکٹ میں خلائی مخلوق کی موجودگی کے بارے میں ٹھوس شواہد نہیں مل سکے ہیں۔





