
رپورٹ ۔سردار دلاور قادری
آزادکشمیر بھر میں بدترین لوڈ شیڈنگ سے تجارت بندہو گئی ہے اور شہری خوار ہو گئے ہیں تقریباً تمام شہروں کے اندر کاروباری طبقہ تنگ آ چکا ہے بجلی کا نام و نشان نہیں اور بل موسم گرما سے بھی زیادہ دیے جا رہے ہیں ۔پاکستان میں واپڈا کی طرف سے زیرو لوڈشیڈنگ کے اعلان کے چلتے آزادکشمیر میں بد
ترین لوڈ ڈ شیڈنگ نہ صرف واپڈہ کے ظلم و ستم اور آزادکشمیر کے نوآبادی ہونے کی علامت ہے بلکہ ہمارے حکمرانوں کی نا اہلی اور انتظامیہ کی بے حسی کو بھی ظاہر کرتی ہے ۔ سردیوں میں جب بجلی کی طلب بھی اتنی نہیں ہے اور پاکستانی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس وقت بجلی کی رسد طلب سے زیادہ ہے تو یہ اضافی بجلی پھر جا کہاں رہی ہے ہمارے حکمران خود تو اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں یا جنریٹر اور یو پی ایس کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہی لیکن ہمارے عوام کو اس سارے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے آزادکشمیر بھر کی بجلی کی مجموعی ضرورت صرف ساڑھے تین سو میگا واٹ ہے




