مودی کا اروناچلپر دیش کے دورے پر چین غصے میں

چین نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے اروناچل پردیش کی شمال مشرقی ریاست کے دورے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاست میں انڈین رہنماؤں کی سرگرمیوں کی شدید مخالفت کرتا ہے۔

بیجنگ دعوی کرتا ہے کہ یہ ریاست جنوبی تبت کا حصہ ہے۔ نریندر مودی کے اس دورے کا مقصد مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی قوم پرست جماعت بی جے پی کے لیے حمایت حاصل کرنا تھا۔

انڈیا کے وزیر خارجہ نے چین کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رونچل پردیش انڈیا کا اہم حصہ تھا۔

دونوں ممالک میں دو طرفہ تعلقات بہتر بنانے کی حالیہ کوششوں کے باوجود انڈیا اور چین کی پہاڑی سرحد کا تنازع ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔

خبر رساں ادادرے روئٹرز کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین مجموعی طور پر دونوں ملکوں کے درمیان بہتر دوطرفہ تعلقات، چین کے مفادات اورخدشات کا احترام،دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی رفتار کو فروغ اور اور کسی بھی ایسے اقدامات سے باز رہنے پر زور دیتا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تنازعات اور سرحدی مسئلے پیچیدہ ہوں۔

دوسری جانب انڈین وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان کے جانب سے جاری جواب میں کہا گیا ہے کہ اروناچل پردیش انڈیا کا اہم حصہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ انڈین رہنما ملک کے باقی علاقوں کی طرح وقتا فوقتا اروناچل پردیش کا بھی دورہ کرتے ہیں اور چین کو کئی مرتبہ اس بارے میں انڈیا کی پوزیشن بھی واضح کی گئی ہے۔

چینی صدر شی جی پنگ اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی کئی ملاقاتوں دونوں ممالک کے درمیان متوازن تجارت اور سرحدی تنازعے جیسے مسائل پر بات بھی ہوئی ہے۔؟

چین ریاست اروناچل پردیش کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے جب کہ انڈیا کا اصرار ہے کہ شمال مغربی علاقہ اکسائی چن پر چین نے قبضہ جما رکھا ہے۔

واضح رہے کہ چین اوربھارت کے درمیان 1962 میں سرحدی تنازعات پر جنگ بھی ہوچکی ہے جب کہ چین اور بھارت کے درمیان کئی علاقوں پر ملکیت کے تنازعات بھی ہیں۔

2017 میں ہمالیہ کے سرحدی علاقے پر دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے آگئں تھیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے کوشیش جاری ہیں۔