6 ماہ بعد شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کمی

سرمایہ کاروں کا خیال تھا کہ یہ 11فیصد پر برقرار رہے گی تاہم کمی کے بعد 10.5 فیصد ہ گئی ہے

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے قریبا 6 ماہ بعد شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کر دی ہے، جس کے بعد نئی پالیسی ریٹ 10.5 فیصد ہ گئی ہے۔یہ فیصلہ گورنر اسٹیٹ بینک کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔
مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی میں مسلسل کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی کھاتوں میں استحکام کے پیش نظر شرح سود میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افراطِ زر کی شرح توقعات سے کم رہی ہے جبکہ آئندہ مہینوں میں بھی مہنگائی کے دباؤ میں مزید کمی کی توقع ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط، درآمدات میں توازن اور ترسیلاتِ زر میں بہتری سے معیشت کو سہارا ملا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ شرح سود میں کمی کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا، کاروبار کو آسان بنانا اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے، تاہم قیمتوں میں استحکام اسٹیٹ بینک کی اولین ترجیح رہے گا۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے شرح سود میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے کاروباری برادری اور عام آدمی کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے حکومتی معاشی ٹیم کی محنت رنگ لا رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری خزانہ اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام آیا ہے اور پاکستان ترقی کی سمت میں گامزن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ معاشی استحکام کے لیے عوام اور کاروباری برادری نے قربانیاں دیں اور حکومت معاشی بہتری کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن ریلیف فراہم کر رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا لیکن غیر متوقع طور پر مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 50 بیسز پوائنٹ کم کردی ہے.
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے آخری بار مئی 2025 میں شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹ کی کمی کی تھی جس کے بعد لگاتار تار بار شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھی گئی تھی۔