مصنوعی ذہانت کو شفافیت، جامع ترقی اور قومی مفاد کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ سینٹر افنان اللہ
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)اسلامی تعاون تنظیم کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون او آئی سی کامسٹیک اور معروف ٹیکنالوجی ادارے پاتھ فائنڈر سیٹاڈیل کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت اور مستقبلِ روزگار کے موضوع پر ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس او آئی سی کامسٹیک سیکریٹریٹ، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں آئندہ دہائی میں ڈیجیٹل ریاستوں کے قیام، پالیسی سازی اور افرادی قوت کی تیاری سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔کانفرنس میں او آئی سی کے رکن اور مبصر ممالک سے پالیسی سازوں، سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، صنعت کے نمائندوں، مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور نوجوان محققین نے شرکت کی۔ یہ اجتماع مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تربیتی مرکز اور سیٹاڈیل پروگرام کے تحت منعقد کیا گیا۔
کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز عالمی معیشت اور نظامِ حکمرانی کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی ممالک کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمات میں بہتری، قومی سلامتی کے استحکام اور معاشی مضبوطی حاصل کریں۔ انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کامسٹیک کی جانب سے مشترکہ وژن کی تیاری، تحقیقی و تربیتی مراکز کے قیام اور مختلف ممالک میں تربیتی پروگراموں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس کے مہمانِ خصوصی سینیٹر ڈاکٹر افنان خان نے کہا کہ مستقبل کی ڈیجیٹل ریاستوں کی تشکیل کے لیے دوراندیش پالیسیوں، مؤثر قانون سازی اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو شفافیت، جامع ترقی اور قومی مفاد کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔
پاتھ فائنڈر گروپ کے کوچیئرمین اکرام سہگل نے کہا کہ حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان قریبی تعاون کے بغیر جدید تحقیق کو عملی شکل دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے افرادی قوت کی تیاری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
پاتھ فائنڈر سیٹاڈیل کے صدر ایئر وائس مارشل اسد اکرام نے کہا کہ ادارہ ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ، سائبر تحفظ اور ڈیجیٹل تبدیلی کے قومی و علاقائی ایجنڈے کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کامسٹیک کے ساتھ شراکت داری او آئی سی ممالک میں ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کو تیز کرے گی۔
چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل منیر نے کہا کہ مستقبل سے ہم آہنگ ڈیجیٹل ریاست کے لیے مربوط قومی ڈیجیٹل ڈھانچہ اور ڈیٹا پر مبنی حکمرانی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے شہری مرکز اور محفوظ ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی پر زور دیا۔
کانفرنس میں سعودی عرب، مصر، مراکش اور پاکستان کے ماہرین نے براہِ راست جبکہ انڈونیشیا، نائجیریا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، آذربائیجان، یمن، سوڈان اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے آن لائن شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر او آئی سی کامسٹیک اور پاتھ فائنڈر سیٹاڈیل کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت، سائبر تحفظ، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دیا جائے گا تاکہ او آئی سی خطے میں ڈیجیٹل تیاری اور اختراعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
کامسٹیک اور پاتھ فائنڈر سیٹاڈیل کا مصنوعی ذہانت اور مستقبلِ روزگار پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد




