پہل نہ کرتے تو ایران ہم پر حملہ کر دیتا ، ٹرمپ کی نئی منطق

ایرانی قیادت کا خاتمہ کر رہے ہیں، ایران میں جو لیڈربننا چاہتا ہے مارا جاتا ہے
سپین فوجی اڈے دینے اور مدد کرنے پر تیار ہے وائٹ ہائوس کا دعویٰ سپین نے تردید کرنے میں دیر نہ لگائی
سمجھ ہی نہیں آرہا کہ آخر امریکا نے ایران جنگ شروع کیوں کی،سینیٹر کرس مرفی، ایران کے خلاف غیرضروری جنگ لڑی جارہی ہے،سابق سربراہ ایم آئی سکس

واشنگٹن: امریکی صدر ، ٹرمپ جو ایران جنگ کے حوالے سے ہر روز دنیا کو ایک نئی کہانی سنادیتے ہیں انہوں نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ہم ایران پر حملہ کرنے میں پہل نہ کرتے تو وہ ہم پر حملہ کردیتا، پوری قوت سے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کا خاتمہ کر رہے ہیں، ایران میں جو لیڈربننا چاہتا ہے مارا جاتا ہے۔
امریکی صدر نے رائونڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ ایران کے میزائلوں اور لانچروں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ ہم جنگی محاذ پر بہت اچھا کر رہے ہیں صورتحال توقع سے بھی بہتر ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا اگر ہم ایران پرحملہ نہ کرتے تو ایران ہم پرحملہ کردیتا، ایرانی حملے سے پہلے ہم نے ایران پر حملہ کردیا، ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا۔ڈونلڈٹرمپ نے کہا ایران اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنارہا ہے، جب پاگل لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے ہیں تو بری چیزیں ہوتی ہیں۔ ہم نے ایران میں 47 سال سے جاری قتل عام کو روکا۔ امریکی صدر نے سابق صدراوباما کی ایران سے جوہری ڈیل پر بھی تنقید کی۔
ادھر وائٹ ہاوس نے کہا ہے کہ امریکی صدرکاخیال ہے کہ ایران جنگ پر انہیں امریکیوں کی حمایت حاصل ہے، یہ دعوی بھی کیاکہ اسپین فوجی اڈے دینے اور امریکی فوج کیساتھ تعاون کے لیے رضامندہے۔جس کی سپین نے تردید بھی کر دی ہے۔
دوسری طرف امریکہ کے اتحادی امریکہ اور برطانیہ کے ذمہ داران صدر ٹرمپ کی اس جنگ کو بے مقصد قراردے رہے ہیں۔ ڈیمو کریٹ سینیٹر کرس مرفی نے حکومت کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ٹرمپ کچھ کہہ رہے ہیں اور انکے وزیر خارجہ کچھ ، سمجھ ہی نہیں آرہا کہ آخر امریکا نے ایران جنگ شروع کیوں کی۔
برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سابق سربراہ جان سوارز نے کہا ہیکہ ایران کے خلاف غیرضروری جنگ لڑی جارہی ہے۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران سے جنگ کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ ایران کی جانب سے پیشگی حملے کا کوئی خطرہ ہی نہیں تھا۔ایم آئی سکس کے سابق سربراہ نے کہا کہ اب ایران میں اگر بہت بہتر صورتحال بھی ہوئی تو وہ وینزویلا جیسی ہوگی مگر اس سے کہیں زیادہ خطرناک صورتحال پیدا ہونیکا بھی خدشہ ہے۔
دوسری طرف ٹرمپ کو ایران جنگ کے حوالے سے ایک بڑا دھچکا اس وقت لگتے لگتے رہ گیا جب امریکی سینیٹ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملے روکنے کیلیے صدر ٹرمپ پر دبا ئوڈالنے کی قرار داد معمولی برتری سے مستردکردی۔100 رکنی سینیٹ میں قرارداد 47 کے مقابلے 52 ووٹوں سے مستردکی گئی۔
ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں پارٹیوں کے سینیٹرز کی جانب سے پیش قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران پر فضائی حملے روکے جائیں اور ان حملوں کیلیے کانگریس سے منظوری لی جائے۔امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے، ری پبلکنز کے 53 اور حزب اختلاف ڈیموکریٹس کی 45 نشستیں ہیں۔ 2 آزاد امیدواروں نے ڈیموکریٹس کے حق میں ووٹ دیا۔