جرمانہ نہ دینے پر غریب طالب علم کو ٹیچرز نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

چیچہ وطنی کے نواحی گائوں31گیارہ ایل گورنمنٹ بوائز ہائی سکول میں غریب خاندان کا بچہ عبید ولد مشتاق نائی جوکہ پانچویں کلاس کا طالب علم ہے ۔جوبیمار ہونے کی وجہ سے سکول نہ جاسکا۔ اگلے روزسکول حاضر ہونے پر سکول ٹیچر محمد سلیم نے کہا کہ 10روپے جرمانہ لیکر آئو ۔ جوکہ بچہ ادا نہ کرسکا کیونکہ بچے کے والدین انتہائی غریب ہیں ۔ جرمانہ نہ ملنے پر ٹیچر محمد سلیم نے بچے کو بہیمانہ طریقے سے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ۔ بچے کے جسم کے پچھلے حصے پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں ۔ جب متاثرہ بچے کے بھائی محمد زبیر شام کو گھر آیا تو اس نے اپنے بھائی اور والدین کو تشدد کے متعلق بتایا جس پر متاثرہ بچے کے بھائی نے میڈیا ٹیم کو کال کی ۔بھائی نے کہا کہ میرا چھوٹے بھائی کو بخار تھا جس کی وجہ سے وہ سکول حاضر نہ ہوسکا ۔ جب وہ سکول گیا تو سکول ٹیچر نے اسے کہا کہ دس روپے جرمانہ ادا کرو۔ ہم بہت غریب ہیں محنت مزدوری کرکے کماتے ہیں میرا بھائی جرمانہ ادانہ کرسکا جس پرٹیچر محمد سلیم نے میرے بھائی پر تشدد کیا ۔ جو کہ ہمارے ساتھ انتہائی سراسر زیادتی ہے ۔ ہمارا وزیر اعلی پنجاب ، کمشنر ڈویژن ساہیوال ، ڈی سی ساہیوال ، محکمہ ایجو کیشن کے اعلی افسران بالا سے مطالبہ ہے کہ اس واقع کو فی الفور نوٹس لیا جاءے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔