امن کی جیت تو نہ ہوسکی جو سب کی خواہش تھی مگر اسے مکمل ہار بھی نہیں کہ سکتے
21 گھنٹے کے مذاکرات میں کوئی بڑا بریک تھرو نہ ہوسکا نائب امریکی صدر وفد سمیت واپس روانہ
اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری ایران کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہوئی، بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے
نہایت سادہ اور بہترین پیشکش چھوڑ کرجارہے ہیں،امید ہے ایران اسے قبول کرے گا،جے ڈی وینس
مذاکرات ختم نہیں ہوئے بعض نکات پر اتفاق ہوا لیکن بعض نکات پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، ایرانی وزارت خارجہ
مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے ،فریقین امن کے لئے تحمل سے کام لیں،جنگ بندی پر قائم رہیں اور مذاکرات کی طرف واپس آئیں آسڑیلیا سمیت دنیا بھر کی تشویش
اسلام آباد(محمدرضوان ملک)امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں جاری امن مذاکرات کسی بریک تھرو کے بغیر ختم ہوگئے ہیں ۔ اس طرح دنیا نے امن کی جو امید باندھی تھی وہ پوری نہ ہوسکی اور مستقل جنگ بندی اور امن کے حوالے سے دنیا کی مایوسی خوشی میں نہ بدل سکی ۔
فریقین کے درمیان اسلام آباد میں 21 گھنٹے سے زائد مذاکرات ہوئے لیکن بعض نکات پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ اتوار کی صبح اسلام آباد میں مختصر میڈیا بریفنگ کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد سمیت واپس روانہ ہوگئے۔امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے کہامذاکرات میں بعض نکتوں پر حتمی رضامندی نہیں ہوئی، بغیر کسی ڈیل کے واپس جارہے ہیں،ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں وہ ہم نے واضح کردی ہیں۔انہوں نے کہا ہم یہاں نہایت سادہ اوربہترین پیشکش چھوڑ کرجارہے ہیں،امید ہے ایران اسے قبول کرے گا،ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنائے اور ایسے ٹولز حاصل نہ کرے جو انہیں ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل بنائیں۔
امریکی نائب صدرنے مزیدکہاوزیراعظم پاکستان اورفیلڈمارشل ن شاندارمیزبانی کی،مذاکرات میں بعض نکات پر حتمی رضامندی نہیں ہوئی،لیکن پاکستانیوں نے بہت شاندار کام کیا، ہمارے درمیان اختلافات ختم کروانے کی پوری کوشش کی،تاکہ ہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں،ہم نے 21 گھنٹوں تک بات چیت کی اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے کئی پہلوں پرگفتگو کی،فی الحال ہم کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے، ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں وہ ہم نے واضح کردی ہے،ان میں سے کو ن سے معاہدے میں شامل ہونگے کونسے نہیں ،یہ سب ہرممکن حدتک واضح ہوگیا ہے،انہوں نے ہماری تجاویز کو فوری قبول نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ صدرٹرمپ نیکہا تھا اچھی نیت سے جائیں، ڈیل کی ہر ممکن کوشش کریں، ہم مسلسل صدر ٹرمپ سے رابطے میں تھے، کم سے کم 6 بار یا 12 مرتبہ تو ان سے بات کی۔پریس بریفنگ میں امریکی نائب صدر نے بتایا کہ ہم نے ایڈمرل کوپر، وزیر جنگ ہیگیستھ، وزیرخارجہ روبیو سے بھی بات کی، ہم نے قومی سلامتی ٹیم، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ سے بھی بات کی۔
نائب امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے حیرت انگیز کام کیا، دونوں نے امریکا ایران اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔
جے ڈی وینس نے کہا مذاکرات میں جو کمی رہ گئی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی، پاکستان نے ہمارے اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں بہترین کام کیا، پاکستان نے کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کی بھرپورکوشش کی۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ ایران کے ساتھ 21 گھنٹے سے مذاکرات جاری رہے جس میں مختلف امور پر بات چیت کی گئی، مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کرکے اپنی شرائط پیش کی۔
جیڈی وینس نے کہا اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری ایران کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہوئی، بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، میرا خیال ہییہ خبر ایران کیلیے امریکاکے مقابلے میں کہیں زیادہ بری ہے۔
نائب امریکی صدر نے کہا ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا، کسی ڈیل کے بغیر ہم واپس امریکا جا رہے ہیں، ہم یہاں ایک سادہ تجویز اور باہمی سمجھ بوجھ کے طریقہ کار کے ساتھ آئے تھے، ہم ایک حتمی اور بہترین آفر پیش کرنے کے بعد روانہ ہو رہے ہیں، یہی ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے، دیکھتے ہیں ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا، ہمیں واضح یقین دہانی درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، امریکی صدرکا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔نائب صدر بولے ہم نے اپنی ریڈ لائنز اور جن چیزوں کو موزوں بنا سکتے ہیں وہ بتادی ہیں، ایرانیوں کو وہ چیزیں بھی بتائیں جو ہم ایڈجسٹ نہیں کرسکتے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم واپس جارہے ہیں اور ہوٹل سے سیدھ ائر پورٹ کی جانب روانہ ہوئے ۔اس میڈیا بریفنگ کے موقع پر انہوں نے کوشش کے باوجود صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔
امریکی نائب صدرجیڈی وینس وفد کے ہمراہ واپس امریکا روانہ ہوگئے،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈمارشل عاصم منیرنے انہیں رخصت کیا،ایئرپورٹ پروفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ اسحق ڈا ر نے میڈیا بریفنگ میں کہا
امید ہے امریکہ اور ایران مثبت جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے پائدار امن اور خوشحالی کے اصول کی طرف بڑھیں گے فریقین جنگ بندی کے لیے اپنے عزم کی پاسداری جاری رکھیں ۔ انہوں نے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ادوار پر مشتمل مذاکرات ہوئے جس پر ان کے نہایت کے شکر گزار ہیں دونوں ممالک نے وزیراعظم کی درخواست پر مثبت رد عمل دیا پاکستان ائندہ بھی ایران اور امریکہ کے درمیان روابط اور مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ۔
پاکستان کی ثالثی میں 1979 کے بعد پہلی بار امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست اعلی ترین سطح پر مذاکرات ہوئے بات ڈیل تک نہ پہنچی تاہم فریقین میں سے کسی نے مذاکرات ختم ہونے کا اعلان نہیں کیا امریکی وفد کی قیادت جیڈی وینس نے کی ۔
آسٹریلیا کے وزیر خارجہ یعنی وانگ نے کہا کہ اسلام اباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہونا مایوس کن ہے اس بحران کا جلد حل دیکھنا چاہتے ہیں تناظے میں اضافے سے انسانی جانوں کا نقصان ہوگا اور دنیا کی معیشت پر اثر پڑے گا۔


