ایران امریکہ مذاکرات پھر خطرے میں ؟

ٹرمپ کی پریشانیوں میں اضافہ ان کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہے
وہ امن کا کریڈٹ بھی لینا چاہتے اور شکست کا داغ بھی مٹانا چاہتے
اصل مسئلہ دونوں کی باعزت واپسی ہے اور یہ راستہ پاکستان دے رہا ہے
ٹرمپ کے بیانات سے سٹاک مارکیٹ میں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتارچڑھائو آتا ہے جس پر لاکھوں ڈالر کی شرطیں لگتی ہیں بی بی سی

اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان میں ہونے والے ممکنہ امن مذاکرات ایک بار پھر خطرے میں پڑگئے ہیں۔ اس کی اصل وجہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہر مز کی ناکہ بندی ہے ۔ناکہ بندی کے علاوہ امریکہ نے چین سے ایران آنے والے ایک ایرانی تجارتی بحری جہاز پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا اور اوپر سے اس کی تلاشی لینے کا کہ کر چین کی مخالفت بھی مول لی ہے۔
ایران اپنے بحری جہاز پر حملے اور امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر سخت نالاں ہے اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی وفد امریکی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکرات کے لئے پاکستان نہیں جارہا اوراس حوالے سے پاکستان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے متنازعہ بیانات کے باعث ایران کے لئے مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں ہے
مذاکرات کا دوسرا دور جون جوں قریب اتا جا رہا ہے نت نئے مسائل اور رکاوٹیں سامنے آرہی ہیں چین سے انے والے ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے کے بعد ایران نے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے ترجمان ایران کے مطابق مذاکرات نہ کرنے سے متعلق ثالث پاکستان کو اگاہ کر دیا ہے امریکہ نے بحری ناقہ بندی اور ایرانی جہاز پر حملہ کر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے امریکہ سفارتی عمل آگے پڑھانے میں سنجیدہ نہیں ہے اور موجودہ صورتحال کے باعث یکطرفہ طور پر معاملا ت کو معمول پر لانا ممکن نہیں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکی تجاویز غیر سنجیدہ اور مطالبات غیر حقیقت پسندانہ ہیں۔
تاہم پاکستان بھرپور کوشش سے کر رہا ہے کہ ہ فریقین کو ایک بار پھر میز پر لا بٹھایا جائے۔ اس حوالے سے سفارت کاری اپنے عروج پر ہے۔ اعلی سطح پر رابطے ہو رہے ہیں۔
جلدی جلدی فون بج رہے ہیں سب سے اہم رول پاکستان کا ہے بلکہ ان دونوں میں سے زیادہ اہم رول اگر پاکستان کا کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان دونوں کے درمیان امن کی کوشش کروا رہا ہے۔
تاہم مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ کا جو تازہ بیان سامنے آیا ہے وہ قدرے حوصلہ افزا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات ہونے جارہے ہیں اور نائب امریکی صدر کچھ گھنٹوں تک پاکستان میں ہوں گے اور اگر بات آگے بڑھتی ہے تو وہ بھی ایرانی رہنمائوں سے ملاقات کر سکتے ہیںَ ۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ٹرمپ کے ان بیانات سے سٹاک مارکیٹ میں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتارچڑھائو آتا ہے جس پر لاکھوں ڈالر کی شرطیں لگتی ہیں۔
آخری خبریں آنے تک امریکہ میں اس وقت را ت تھی اور ٹرمپ کے اٹھنے کے بعد مذاکرات کے حوالے سے کوئی مثبت خبر سامنے آئے گی۔