جائیداد کی خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز
اسلام آباد(نیوزرپورٹر) موجودہ بجٹ میں زمین و جائیداد کی خریدوفروخت اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے لئے خوشخبری سامنے آئی ہے ۔ حکومت نے نئے بجٹ میں زمین و جائیداد کی خریدو فروخت پر ٹیکس میں 50 فیصد تک کمی کر دی ہے تاہم یہ سہولت صرف فائلر کے لئے ہے۔
وزیرخزانہ نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ پاکستان کی معیشت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی کا پہیہ تیز کرنے میں کنسٹرکشن سے بڑھ کر کوئی شعبہ نہیں ہے۔ جب کنسٹرکشن کا شعبہ ترقی کرتا ہے تو سیمنٹ، لوہا، شیشہ، پلاسٹک، پینٹس، ہارڈویئر اور چالیس سے زائد صنعتیں فروغ پاتی ہیں۔ ڈویلپرز پر عائد وِدہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے بلڈرز کے لیے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس اقدام سے کنسٹرکشن کی سرگرمیاں زور پکڑیں گی اور تعمیرات کا شعبہ فروغ پائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2035 تک ہماری تقریباً نصف آبادی شہری علاقوں میں مقیم ہوگی۔ شہری مراکز (55%) لاکھوں سے زائد روزگار فراہم کرتے ہیں اور جی ڈی پی میں چون اعشاریہ چھ فیصد حصہ ہیں۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں پائیدار شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے چون اعشاریہ چھ (54.6) ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس رقم کے ذریعے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک لاکھ پچاس ہزار (150,000) آب و ہوا سے محفوظ رہائشی یونٹ تعمیر کیے جائیں گے، دس (10) بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار کیے جائیں گے اور شہری پانی اور صفائی کی فراہمی میں واضح بہتری لائی جائے گی۔انہوں نے کہا یہ منصوبے ان اقدامات کے علاوہ ہیں جن کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔ ان دونوں کے امتزاج سے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے میں واضح اور دور رس نتائج کی حامل مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
زمین و جائیداد کی خریدو فروخت سے وابستہ افراد نے اس حکومتی فیصلے کو خوش آئند قراردیا ہے۔



