آبنائے ہرمز جمعہ کو جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے بعد کھل جائے گی: ٹرمپ
ایران نے امن معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفاہمی یاداشت کا مطلب دشمن پر اعتماد کرنا نہیں
اسلام آباد:ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں.ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق مسودےکے تحت امریکی بحری ناکہ بندی 30 دن کے اندر ختم کی جائے گی، ایران کے تیل اورپیٹروکیمیکل برآمدات پر پابندیاں معطل کرنا بھی مسودے میں شامل ہے، مسودے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پرفوری اورمستقل جنگ بندی بھی شامل ہے.
امریکا و اتحادیوں کو ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر دینا ہوں گے، حتمی معاہدے میں ایران کا میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروپوں کی حمایت شامل نہیں، مذاکرات کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر منجمد اثاثے جاری کیے جائیں گےجبکہ مذاکرات سے قبل ہی امریکا ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر جاری کرے گا، حتمی ایران امریکا معاہدہ کی توثیق سلامتی کونسل قراردادکے ذریعے کرنا بھی مسودے میں شامل ہے۔
دوسری طرف ایران نے بھی امریکا کے ساتھ امن معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفاہمی یاداشت کا مطلب دشمن پر اعتماد کرنا نہیں ہے. ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور عسکری کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان آج رات سے شروع کر دیا جائے گا جس میں لبنان سمیت دیگر محاذ بھی شامل ہیں، آج رات سے ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا
ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق ایران کی فوجی طاقت نے معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے میں مدد کی، حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا جائے گا جو 60 روز پر محیط ہوگا، 60 روزہ مذاکرات میں جوہری معاملات زیرِ بحث آئیں گے، پابندیوں کے خاتمے پر بات ہوگی، ایران کی تعمیرِ نو کے طریقہ کار بھی زیرِ بحث آئیں گے ، 60 روزہ مذاکراتی عمل میں پابندیوں کے خاتمے پر فوکس کیاجائےگا، منجمد اثاثوں کی بحالی،ناکہ بندی اورجنگ کاخاتمہ ہونے پرمذاکرات میں شامل ہوں گے۔
ایرانی نائب وزیرخارجہ نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ معاہدے کی پاسداری نہ ہوئی تو ایران ردعمل دے گا۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے متن کو باضابطہ دستخط کے بعد جاری کیا جائےگا تاہم مفاہمی یاداشت کا مطلب دشمن پر اعتماد کرنا نہیں ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں ایران کیساتھ طے پانے والے معاہدے کو ایک عظیم معاہدہ قرار دیتے ہوئےکہا کہ یہ پورے خطے میں امن اور سلامتی کو یقینی بنائے گا۔ اپنے بیان میں ٹرمپ نےکہا کہ ماضی میں کئی صدور ایران کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر ناکام رہے تاہم ان کے مطابق موجودہ پیش رفت پہلی بار حقیقی امن کی جانب عملی قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو باضابطہ طور پر کھولنےکا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بحری نقل و حرکت اور عالمی تجارت بحال ہو سکے، ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز جمعہ کو جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کے بعد کھل جائے گی،



