دنیا نے سکھ کا سانس لیا ،معاشی سرگرمیاں تیز تیل کی قیمتیں گر گئیں ، سٹاک مارکیٹس میں تیزی
دنیا بھر کے قائدین کا امن کا خیرمقدم،پاکستان کی تعریفیں وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکبادیں
ایک وقت تھا کہ عالمی رہنما پاکستانی وزیراعظم کا فون نہیں سنتے تھے اور آج پاکستانی وزیراعظم سے فون پر بات کرنا اپنا اعزاز سمجھتے ہیں
یہ امن کا وہ منصوبہ ہے جس کا دنیا کے پاس کوئی پلان بی اور سی نہیں ہے پلان اے کو ہی کامیاب کرنا ہوگا
اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)ایک طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد امریکہ او ر ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں جس سے دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے۔اس اعصابی جنگ نے دنیا کی معیشت ہلا کر رکھ دی تھی ،تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی کا سیلاب آیا اور عام آدمی بری طرح متاثڑ ہوا۔سوائے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دنیا کا ہر شخص اس جنگ کے جلد خاتمے کا خواہاں تھا ۔
جنگ بندی معاہدے پر دستخط تو ۱۹جون کو ہوں گے لیکن امن معاہدے کے اعلان کے سساتھ ہی دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے پوری دنیا میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں تیل کی قیمتیں گر گئیں اور سٹاک مارکیٹس میں انتہائی تیزی کا رجحان ہے۔دنیا بھر کے قائدین نے امن کا خیرمقدم ہے اور ہر طرف پاکستان کی تعریفیں جاری ہیں۔
دنیا کو سب سے پہلے یہ خوشخبری پاکستانی وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے سنائی۔ انہوں نے شوشل میڈیا ایکس پر ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے پر دستخطوں کا اعلان کیا جس کی امریکی صدر ٹرمپ نے چند گھنٹے اس کی تصدیق کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل اور اہم مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔وزیراعظم شہبازشریف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔وزیراعظم نے معاہدے کیلئے قطر، سعودی عرب اور ترکیے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فریقین نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا، معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر کارروائیاں روکنا شامل ہے۔وزیراعظم نے کہا ثالثی کاکردارادا کرنے والے ممالک رواں ہفتے متعدد ملاقاتیں کریں گے، ملاقاتوں میں معاہدے پر عملدرآمد سے قبل تکنیکی امور پر مشاورت کی جائے گی۔وزیراعظم نے تنازع کےسفارتی حل پر امریکا اور ایران کا بھی شکریہ ادا کی۔
مایوسی کے گہرے سائے ہر طرف چھائے تھے کہ پاکستان نے دنیا کونہ صرف امن کی نوید سنائی بلکہ اس کی راہ بھی دکھائی ہے۔مذاکرات سے نہ صرف امن آئے گا بلکہ مہنگائی اور غربت کا خاتمہ بھی ہوگاا ور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔
اس سال فروری میں شروع ہونے والی ایران امریکہ جنگ جس سے دنیا کا امن شدید خطرے میں پڑھ گیا تھا،خاص طور پر اس جنگ نے دنیا کو معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔دنیا کی اس مشکل کو حل کرنے کے لئے پاکستان نے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا اورپاکستان کی کوششوں کے باعث گیارہ اپریل کو فریقین میں امن کے لئے کوششوں کا آغاز ہوا اس میں شک نہیں کہ یہ ایک بہت مشکل ٹاسک تھا جس کا پاکستان نے بیڑا اٹھایا جب دنیا پر مایوسی کے گہرے سائے بہت گہرے ہو رہے تھے تو پاکستان نے دنیا کو امن کی نہ صرف نوید سنائی بلکہ راہ بھی دکھائی۔
اس سلسلے میں پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف ،وزیر خارجہ اسحاق ڈٓار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششیں قابل تحسین ہیں اور پوری دنیا ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور انہیں سراہا بھی رہی ہے۔ دنیا میں شاہد ہی کوئی ایسا ملک یا شخص ہو جو اس اہم کاوش پر خوش نہ ہو۔
پاکستان کی کوششوں سے آٹھ اپریل ہونے سے والی اس جنگ بندی کے بعد سے دنیا بھر کے اخبارات اور چینلز اس بات پر پاکستان کی تحسین کرتے نہیں تھک رہے اور پہلی بار دنیا کو احساس ہو رہا ہے ایران کا ایٹمی پروگرام دنیا کے لئے اتنا خطرہ نہیں جتنا آبنائے ہرمز کی بندش پر اسے اٹھانا پڑھ رہا ہے۔
پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نہ صرف فریقین میں جنگ بندی کرائی بلکہ اس امن کو مستقل طور پر حاصل کرنے کے لئے کئی ماہ تک انتھک کوشش کی۔


