امن کے دشمن اسرائیل نے ایران امریکہ مذاکرات منسوخ کرادئے

پوری دنیا ایک طرف اسرائیلی دہشت گردی ایک طرف
امریکا سے ملتوی کیے گئے مذاکرات کی نئی تاریخ یا مقام کا ابھی تعین نہیں کیا گیا

اسلام آباد:اسرائیل کی لبنان پر وحشیانہ بمباری کے باعث جمعہ کو سوئزر لینڈ میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات منسوخ ہو گئے ہیں.
ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع نے اسرائیلی فوج کے لبنان پر حملوں کو امریکا ایران مذاکرات ملتوی ہونے کا سبب قرار دیدیا۔ذرائع ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق جمعہ کی صبح بھی اسرائیلی فوج کے لبنان پرحملوں سے 16 افراد شہید ہوچکے ہیں، اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہی نہیں ہوا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف مذاکرات کار قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سوئٹزرلینڈ روانگی کے لیے بالکل تیار تھے لیکن اسرائیلی جارحیت جاری رہنے کی وجہ سے ایرانی وفد کا دورہ آخری لمحات میں ملتوی کیا گیا۔ذرائع کے مطابق امریکا سے ملتوی کیے گئے مذاکرات کی نئی تاریخ یا مقام کا ابھی تعین نہیں کیا گیا۔
اسرائیل کی لبنان میں کارروائی حالیہ ہفتوں کی بدترین بمباری ہے۔ اس طرح اسرائیل امن کی راہ میں‌رکاوٹ‌ بن گیا ہے. اور اس وقت ساری مہذب دنیا شرارتی اسرائیل کے ہاتھوں تنگ ہے.
سوئس وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق برجنسٹاک میں امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ مذاکرات اب نہیں ہوں گے۔سوئس وزارتِ خارجہ کا یہ بیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سوئٹزر لینڈ روانگی مؤخر ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔سوئس وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کے لیے بدستور تیار ہے، برجنسٹاک میں متعلقہ تیاریوں کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق سوئس وزارت خارجہ نے مذاکرات کی نئی تاریخ سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں.
دوسری جانب فرانس نے لبنان پر حملے روکنے کیلئے امریکا سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے. فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئیل بارو نے کہا ہے کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں بند کرے۔ژاں نوئیل بارو نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ فرانس لبنان کی فوج کی مدد کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس حوالے سے حمایت کو متحرک کیا جا سکے۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ کے مطابق اس تمام صورتِ حال میں سب سے بڑا نقصان ایران کے عوام نے اٹھایا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران کو اپنی موجودہ حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ فرانس اس وقت تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی حمایت نہیں کرے گا جب تک تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات اس کی توقعات کے مطابق پیش رفت نہیں کرتے۔فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ فرانس کی منظوری کے بغیر سلامتی کونسل کی ایران پر پابندیاں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ان کے مطابق ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر خدشات دور ہونے تک خطے میں پائیدار استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے اتحادی گروپوں کی حمایت سے متعلق خدشات ختم ہونے تک بھی خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا اور اس صورتِ حال میں ایران کے طرزِ عمل اور پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے.اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورا لبنان جلا دینا چاہیے۔اتمار بن گویر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی ماؤں کے آنسوؤں کے بدلے لبنانی ماؤں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان برداشت کرنا چاہیے اور اس وقت خطے میں سخت اور تباہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزر لینڈ کا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ نئی مذاکراتی کوششوں کی قیادت کی جا سکے۔بتایا گیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی مفاہمت کے بعد 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے۔
ادھر امریکی سینٹکام نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندی ختم کر دی ہے جبکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے اجازت نامے اب اس کی متعلقہ اتھارٹی جاری کرے گی۔