سائن کیسے ہوئے؟ پیپرز کا پرنٹ نکالنے کیلئے کون پرنٹر تلاش کرتا پھر رہا تھا؟
سب کچھ اچانک ہوا ڈرمپ نے ڈیل پر سائن کی بھنک اپنے مشیروں کو بھی نہ ہونے دی
فرانس میں ہوئے والے ان دستخطوں کو ساری دنیا نے دیکھا اور پھر کسی کے پاس کوئی آپشن نہ رہا
اسلام آباد:پاکستان کی میزبانی میں سوئزر لینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا باقادہ آغاز ہو چکا ہے اور دنیا امن کی آس آنکھوںمیںسجائے بیٹھی ہے جس کا راستہ پاکستان سے نکلا ہے .لیکن اس سب سے اہم یہ ہے کہ اس ڈیل پر سائن ڈرامائی انداز میں کیسے ہوئے جسے سبوتاژ کرنے کے لئے اسرائیلی وزیراعظم ایڑی چوڑی کا زور لگا رہے تھے.
ٹرمپ نے جی ایٹ اجلاس میں اس ڈیل پر ڈرامائی انداز میدستخط کئے ٹرمپ نے کب میکروں کو بتایا کہ وہ ڈیل سائن کرنے جا رہے ہیں۔ آخر وقت میں ڈیل کے پیپرز کا پرنٹ نکالنے کے لیے کون پرنٹر تلاش کرتا پھر رہا تھا؟
ویسے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر ایک تاریخی محل میں ہونے والی عشائیے کی تقریب میں مدعو تھے، لیکن انہوں نے اچانک عشائیے کے میزبان فرینچ صدر میکروں کو یہ کہہ کر حیران کردیا کہ وہ ابھی ایران سے ڈیل پر دستخط کرنا چاہتے ہیں۔
خود ٹرمپ کے مشیروں کو اس بات کا علم اُس وقت ہوا، جب وہ بظاہر ایک ڈنر میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، ورنہ پہلے تو یہ طے تھا کہ ڈیل پر دستخط سوئٹزر لینڈ میں ہوں گے، جہاں نائب صدر جے ڈی وینس جانے والے تھے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اچانک کہا کہ ڈیل ہوگئی، اور وہ اس پر فوری عملدرآمد کے لیے اس پر ابھی دستخط کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں شروع ہوا میکرون کا امتحان، لیکن انہوں نے ٹرمپ سے کہا کہ فکر نہ کریں، دستخط کی تقریب کے انتظامات وہ بہت تیزی سے کرلیں گے، اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔
اس دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، اپنے فرانسیسی ہم منصب کے ساتھ ایسا پرنٹر تلاش کر تے نظر آئے، جس کے ذریعے ڈیل کا پرنٹ نکالا جا سکے۔ دستخط کے وقت عشائیے میں موجود لوگوں سے ٹرمپ نے کہا کہ”میں یقین سے کہہ رہا ہوں، یہ آسان نہیں تھا”۔ انہوں نے اس موقع پر سائن کی ہوئی ڈیل کا مسودہ ہاتھ میں بھی لہرایا۔ میکرون نے اس موقع پر بلند آواز میں کہا "براوو” ۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے باعث سوئٹزرلینڈ کا ایونٹ مشکل نظر آرہا تھا جنگ بندی کا اعلان تو ہوا، لیکن نیتن یاہو نے اس پر عمل نہیں کیا۔ 14 نکات کی ایران امریکا ڈیل اگرچہ اب بھی بہت کمزور ہے، تاہم اس سے ٹرمپ کو جو تنازع کا خاتمہ بالخیر چاہتے تھے، وہ ریلیف ملا جس کے وہ خاصی دیر سے منتظر تھے۔
فرانس میں ڈیل پر دستخط کا معاملہ اس لیے تھوڑا کنفیوژڈ رہا کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اتوار کو ڈیل پر دستخط کر چکے ہیں۔ تاہم اتوار کو ہوئے دستخط کے واحد عینی گواہ خود ٹرمپ ہی تھے۔ البتہ فرانس میں ہوئے نہ صرف ٹرمپ بلکہ ایرانی صدر پزشکیاں کے دستخطوں کو ساری دنیا نے دیکھا۔


