فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ میں مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کے بارے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ
بیٹیوں نے جائیداد کے حصول کی خاطر مرحوم باپ کو شعیہ ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں
لاہور(خصوصی رپورٹر)پھالیہ، منڈی بہاؤالدین کا علی محمد فوت ہوا تو اسکے ورثاء میں صرف بیٹیاں تھیں، بیٹا نہ تھا۔ بیٹیوں نے اپنے باپ کو شیعہ/ فقہ جعفریہ کا پیروکار ظاہر کیا اور 30 جنوری کو ساری جائیداد اپنے نام انتقال کروا لی۔ لیکن یہ انتقال 6 فروری کو ریونیو افسر نے اس وجہ سے منسوخ کر دیا کہ بیٹیاں شجرۂ نسب ثابت کرنے میں ناکام رہی تھیں۔
اس کے بعد بیٹیوں نے 26 فروری کو اپنے والد کا ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوایا جس میں واضح طور پر اپنے والد کا مسلک "فقہ جعفریہ” لکھوایا۔ اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر 29 مئی کو فقہ جعفریہ کے مطابق وراثتی انتقال بیٹیوں کے نام ہو گیا، اگرچہ اس موقع پر کچھ افراد نے تصدیق کی کہ مرحوم شیعہ تھے، جبکہ چار افراد نے گواہی دی کہ مرحوم سنی تھے، مگر افسرِ مال نے شیعہ مسلک کو تسلیم کر لیا۔
(واضح رہے کہ اگر متوفی کی صرف بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو تو فقہ حنفی کے مطابق دو تہائی وراثت بیٹیوں کو اور باقی قریبی رشتہ داروں کو ملتی ہے، جبکہ فقہ جعفریہ کے مطابق ایسی صورت میں تمام جائیداد صرف بیٹیوں کو ہی ملتی ہے۔ رض)
علی محمد کا ایک قریبی رشتہ دار (کزن) خوشی محمد تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ علی محمد سنی / فقہ حنفی کا پیروکار تھا، لہٰذا اسکی وراثت میں سے مجھے بھی میرا حصہ دیا جائے۔ خوشی محمد نے سول کورٹ میں اپنا وراثتی حصہ لینے کیلئے مقدمہ دائر کر دیا۔
خوشی محمد کی طرف سے عدالت میں محلے کے امام مسجد بطور گواہ پیش ہوئے، جنہوں نے گواہی دی کہ مرحوم علی محمد کا جنازہ انہوں نے پڑھایا تھا اور وہ سنی حنفی تھا۔ گاؤں کے یونین ناظم حامد علی، جو خود شیعہ تھے، انہوں نے گواہی دی کہ علی محمد سنی تھا۔ اسی طرح علی محمد کے ایک بھانجے شیر محمد نے بھی اس کے سنی ہونے کی گواہی دی۔
دوسری طرف متوفی علی محمد کی بیٹی ‘صاحب بی بی’ بطور گواہ پیش ہوئی اور کہا کہ اس کے والد شیعہ تھے۔ جب اس پر جرح ہوئی تو اس نے اقرار کیا کہ اس کے والد فصلوں کی پیداوار میں سے دس فیصد (عشر) غریبوں کو دیتے تھے۔ وہ شیعہ اور سنی اذان میں فرق نہ بتا سکی۔ باغِ فدک بارے سوال ہوا تو اس کے بارے میں بھی نہ بتا سکی۔ مزید اقرار کیا کہ اس کا نکاح منظور احمد نامی سنی مولوی نے پڑھایا تھا۔ کہا کہ والد کا جنازہ نقوی صاحب نے پڑھایا تھا۔ بیٹیوں کے ایک گواہ نے کہا کہ جنازہ مولوی منظور نے پڑھایا اور ایک کے مطابق سید اعجاز نے پڑھایا۔
سول (ٹرائل) کورٹ نے ان شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرار دیا کہ مرحوم سنی المسلک تھا، بیٹیاں باپ کی تمام جائیداد خود لینے کے لیے اسے شیعہ ثابت کرنا چاہ رہی ہیں۔ عدالت نے خوشی محمد کا دعویٰ اس کے حق میں ڈگری کر دیا۔
علی محمد کی بیٹیوں نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی جو خارج ہوگئی۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جہاں جسٹس احمد ندیم ارشد نے جنوری 2025ء میں سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔
ہائیکورٹ نے لکھا کہ سپریم کورٹ "پٹھانا بنام وسائی” کیس (پی ایل ڈی 1965 ایس سی 134) میں یہ قرار دے چکی ہے کہ "برصغیر میں ہر مسلمان کو سنی مسلک کا سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اس کے برعکس کوئی ٹھوس ثبوت نہ دیا جائے”۔ یوں مرحوم کو شیعہ ثابت کرنے کی ذمہ داری بیٹیوں کی تھی، جس میں وہ بری طرح ناکام رہیں۔ جبکہ مدعی نے امام مسجد، گاؤں ناظم اور دیگر گواہوں و دستاویزی شہادتوں سے ثابت کیا کہ علی محمد سنی المسلک تھا۔
علی محمد کی بیٹی صاحب بی بی نے دعویٰ کیا کہ وہ 30، 32 برسوں سے مجالس میں شرکت کرتی اور اپنے گھر میں مجلس بھی کراتی ہے۔ پھر بھی وہ قضیہ باغِ فدک سے قطعی ناواقف تھی۔ باغِ فدک وہ اہم تاریخی واقعہ ہے جو حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا اور خلافت کے درمیان باغِ فدک کی ملکیت سے متعلق ہے۔ یہ شیعہ اسلام کا ایک مرکزی موضوع ہے جو ہر مجلس میں بیان ہوتا ہے۔ جو شخص 30 سال سے مجالس میں شامل ہو، اس کا اس موضوع سے قطعی بے خبر ہونا غیر منطقی اور ناقابلِ یقین ہے۔
صاحب بی بی نے تسلیم کیا کہ والد فصل کا دسواں حصہ (عشر) دیتے تھے، جو کہ سنی مسلک کا طریقۂ کار ہے، جبکہ شیعہ مسلک میں عشر نہیں بلکہ سالانہ بچت کا پانچواں حصہ بطور "خمس” سادات کو ادا کیا جاتا ہے۔ صاحب بی بی نے اعتراف کیا کہ اسکا اور اسکے بیٹے کا نکاح سنی مولوی نے پڑھایا۔ بیٹیوں کے گواہان اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ جنازہ کس نے پڑھایا۔ جبکہ مدعی نے خود جنازہ پڑھانے والے امام کو پیش کیا اور اسے جرح میں نہیں توڑا گیا۔ پہلے انتقال کے منسوخ ہونے کے فوراً بعد ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں مرحوم کا مسلک "فقہ جعفریہ” درج کروانا مدعاعلیہم کی ایک سوچی سمجھی چال تھی تاکہ مرحوم کی مکمل جائیداد ہتھیا سکیں۔
ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے مرحوم علی محمد کو سنی المسلک قرار دینے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے صاحب بی بی وغیرہ کی پٹیشن خارج کر دی۔



