ایران نے سارا کچا چھٹا جے ڈی وینس کے آگے کھول دیا، وائٹ ہائوس میں ہلچل
ایران کا دعویٰ ہے کہ جیرڈ کشنر اور وٹکوف مذاکرات کے خفیہ راز لیک کر کے اب تک 9 ارب ڈالر کما چکے
تاہم اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اسے ایران کی ایک چال قراردیا ہے
واشنگٹن:ایران امریکہ جنگ کے دوران امن کی راہ میںسب سے بڑی رکاوٹ امریکی صدر ٹرمپ کا داماد اور ان کے دوست ہیں جو اس جنگ کی آڑ میں اربوں ڈالر کما چکے اور مزید کمانا چاہتے ہیں.
نیوز 18 کے مطابق میڈیا رپورٹ ہیں کہ ایران نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کو ایک پرائیویٹ پیغام بھیجا ہے جس میںدعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کے قریبی دوست اسٹیو وٹکوف امن مذاکرات کی آڑ میں اربوں ڈالر کا کھیل کھیل رہے ہیں۔
خبر ہے کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اور امریکہ کے ایک بڑے رہنما کو پرائیویٹ پیغام بھیج رہا ہے۔ اس پیغام میں کچھ ایسا لکھا گیا ہے، جس کے بعد ٹرمپ کے سب سے قابلِ اعتماد حلقے میں اختلافات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے بھیجے گئے اس پیغام میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی حقیقت سامنے لانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے انتہائی قریبی ارب پتی دوست اسٹیو وٹکوف پر بھی حیران کن الزامات لگائے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے یہ پرائیویٹ پیغام امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کو بھیجا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کے قریبی دوست اسٹیو وٹکوف امن مذاکرات کی آڑ میں اربوں ڈالر کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایران نے براہِ راست جے ڈی وینس سے شکایت کی ہے کہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کے دوست اسٹیو وٹکوف کو اس سنجیدہ گفتگو سے دور رکھا جائے۔
ایران کا الزام ہے کہ یہ دونوں افراد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری خفیہ امن مذاکرات سے متعلق نہایت حساس اور خفیہ معلومات کا استعمال کرتے ہوئے مالیاتی منڈیوں میں ہیرا پھیری کر رہے ہیں۔ ایران کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، اس ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے ذریعے ان دونوں نے مذاکرات کے دوران تقریباً 9 ارب ڈالرکا بھاری منافع کمایا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ایران نے ایک ثالث ملک کے ذریعے تحریری دستاویزات بھی حوالے کی ہیں، جنہیں اس مالی ہیرا پھیری کا پختہ ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایران نے اس منافع میں سے اپنے لیے بھی حصہ مانگ لیا ہے۔ ایران نے تحریری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ 9 ارب ڈالر کے منافع میں سے 4.5 ارب ڈالر ایرانی فریق کو دیے جائیں۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ مطالبہ امریکی حکام تک پہنچا دیا ہے اور وقت آنے پر یہ دستاویزات تاریخ کا حصہ بنیں گی۔
ایران نے صرف مالی ہیرا پھیری کا الزام ہی نہیں لگایا بلکہ قومی سلامتی سے متعلق ایک نہایت سنگین معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ جیرڈ کشنر مسلسل ان خفیہ امن مذاکرات سے متعلق انتہائی حساس اور انٹیلی جنس معلومات اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید دشمنی ہے، اسی لیے ایران نے جے ڈی وینس کو خبردار کیا ہے کہ اگر کشنر اور وٹکوف مسلسل اس گفتگو کا حصہ بنتے رہے تو آئندہ مذاکرات ناممکن ہو جائیں گے۔
معلوم ہوا ہے کہ یہ حیران کن رپورٹ سامنے آتے ہی ٹرمپ انتظامیہ اور وائٹ ہاؤس فوری طور پر دفاعی انداز میں آ گئے ہیں امریکی حکام نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کہا کہ امریکہ کو ایسا کوئی بھی خفیہ پیغام کبھی موصول نہیں ہوا۔ ٹرمپ کے قریبی حلقے کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے اور تنازع کو مزید بڑھانے کی ایک چال ہے۔



