جموں، مسلمانوں اور ان کی املاک پر ہندو دہشت گردوں کے حملے، شہر میں کرفیو

جموں کے ساتھ ساتھ پنجاب، ہریانہ، چھتیس گڑھ اور دیگر ریاستوں میں مقیم کشمیری طلبا نے کہا ہے  انہیں وہاں ہراساں کیا جارہا ہے اور کشمیر واپسی جانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔

اس ساری صورتحال پر کشمیر میں بھی ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔ آج سہ پہر لالچوک میں نوجوانوں نے مرکزی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ تاجربرادری نے دن کے تین بجے احتجاجاً تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں اور حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں اور دیگر ریاستوں میں مقیم کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ ٹریڈرس فیڈریشن لال چوک کے سربراہ بشیر احمد نے بتایا کہ جموں کی صنعت کا کشمیر کی مارکیٹ پر انحصار ہے، اور کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ دو دن کے اندر بند نہیں کیا گیا تو ” ہم جموں کا بائیکاٹ کریں گےی اسی حلقوں نے بھی کشمیریوں کو ہراساں کئے جانے کے واقعات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ماتم اور تعزیت کی بجائے ہندو کو مسلمان سے اور جموں کو کشمیر سے ٹکرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ سابق وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے بھی کشمیریوں کو درپیش فرقہ وارانہ نفرت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ کشمیریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ بعد میں حکومت ہند نے تمام ریاستوں کی حکومتوں سے کہ وہ کشمیریوں کو احساس تحفظ دلانے کے لیے مناسب اقدامات اُٹھائیں۔

سابق رکن اسمبلی انجنئیر رشید کا کہنا ہے کہ پلوامہ میں ہوئے حملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "واقعی یہ ایک افسوس ناک واقعہ تھا۔ ہم ہی جانتے ہیں کہ جوانوں کے اہل خانہ پر کیا گزر رہی ہے۔ لیکن جموں میں جو لوگ سی آر پی ایف جوانوں کی فکر میں فساد پر آمادہ ہے، انہیں اگر اتنی ہی فکر ہوتی تو ہلاک ہوئے جوانوں میں راجوری کا ایک جوان نصیر احمد بھی ہے، ان کے گھر جاتے اور تعزیت کرتے۔ اس کے برعکس نصیر کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا۔”جموں میں دہلی حکومت کے آشیرباد سے آر ایس ایس ، بجرنگ دل ، شیوسینا جیسی کٹر مسلم دشمن ھندو تنظیموں کو مسلمانوں پر حملوں کی کھلی چھوٹ حاصل ہے