اسیں ویکھدے ای رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا،علامہ اقبال
اسلام آباد: 1920ء کی دہائی میں ایک ہندو پبلشر مہاشے راجپال نے نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ کتاب شائع کی،غازی علم الدین کے دل میں ناموسِ رسالت کا جذبہ اس قدر بیدار ہوا کہ 6 اپریل 1929ء کو انارکلی بازار میں واقع راجپال کی دکان میں داخل ہو کر اسے جہنم واصل کر دیا۔
گرفتار ہونے کے بعد غازی علم الدین نے اپنے اقدام کا برملا اعتراف کیا، جس کے نتیجے میں 22 مئی 1929ء کو سیشن کورٹ نے انہیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح بمبئی سے خصوصی طور پر لاہور ہائی کورٹ اس فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے تشریف لائے، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ علم الدین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔ تاہم، ہائ کورٹ نے اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔
غازی علم الدین کو میانوالی جیل منتقل کیا گیا، جیل ذرائع کے مطابق، جب انہیں پھانسی کے حکم کی اطلاع ملی تو وہ مسکرا دیے اور کہا کہ "میں جیل میں سڑنا نہیں چاہتا تھا، میری خواہش تھی کہ اپنے آقاؐ کی عزت پر جان قربان کر کے ابدی زندگی پا سکوں”۔ بالآخر 31 اکتوبر 1929ء کی صبح میانوالی جیل میں غازی علم الدین شہید کو پھانسی دے دی گئی۔
14 نومبر 1929ء کو غازی علم الدین شہید کا جسدِ خاکی میانوالی سے لاہور پہنچا تو پورا شہر امڈ آیا،نمازِ جنازہ میں تقریباً 4 لاکھ سے زائد عاشقانِ رسولؐ شریک ہوئے، جو اس دور میں لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ شہر کے تمام بازار اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند تھے۔
جب غازی علم الدین شہید کے جسدِ خاکی کو قبر میں اتارا جا رہا تھا، تو علامہ محمد اقبال زار و قطار رو رہے تھے، اس موقع پر انہوں نے اپنے تاریخی اور امر ہو جانے والے الفاظ کہے: "اسیں ویکھدے ای رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا” یعنی کہ: ہم پڑھے لکھے لوگ دیکھتے ہی رہ گئے اور بڑھئی کا یہ ان پڑھ بیٹا بازی لے گیا۔۔۔۔




