دس دنوںمیں چار ملین ڈالر سرمایہ کاری آئی چیئر مین سی پیک اتھار ٹی لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی سی پیک سے متعلق خصوصی کمیٹی کوبریفنگ

اسلام آباد:وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات و چیئر مین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ4 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری پچھلے 10 دنوں میں آئی ہے،حویلیاں سے تھاکوٹ روٹ بنایا گیا ہے جوجلد کھل جائیگا،سی پیک کا کسی بھی جگہ کام رکا نہیں ہے، گوارد میں 2400 ایکڑ پرانڈسٹریل زون ہے جس پر پہلی 7 فیکٹریاں بن رہی ہیں۔پیر کو کنوینیر سینیٹر شیری رحمان کی صدارت میں سی پیک سے متعلق خصوصی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔کمیٹی کو عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ اقتصادی راہداری کے نئے مغربی روٹ پر کام جاری ہے۔ ہوشاب۔آواران موٹروے پر کام جلد شروع ہوجائے گا،سڑکوں کی تعمیر سے علاقے میں ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ ایم ایل ون منصوبے کے تحت ریلوے کا ٹرانسمیشن نظام تبدیل کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ کوہالہ کے 1120 میگاواٹ پروجیکٹ کا معاہدہ ہوگیا ہے، ڈی آئی خان سے ژوب تک سڑک کا کام ہورہا ہے جس سے اسلام آبادبراہ راست ژوب سے منسلک ہوگا، ایسٹ وے ایکسپریس وے پر کام ہو رہا ہے، عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ گوادر میں سوشل سیکٹر میں اسپتال اور ووکیشنل سینٹر قائم کیا گیا ہے، ہمارا پلان ہے کہ گوادر میں جب ایئرپورٹ بنے تو اس کے تمام راستے مکمل ہوں،عاصم سلیم نے کہا کہ قرض سے زیادہ سرمایہ کاری
پر زور ہے، عاصم سلیم باجوہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ایم ایل ون منصوبے کے تحت ریلوے کا ٹرانسمیشن سسٹم تبدیل کردیا جائیگا، اہم سڑکوں سے ریلویزپرشفٹ ہوں گے تو نظام بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رشکئی میں ایک ہزار ایکڑ پر اقتصادی زون بنایا جا رہا ہے، خیبر پاس اقتصادی لنک بن رہا ہے۔ عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ دھابیجی میں تجارت کے بہت مواقع ہیں، رشکئی خصوصی اقتصادی زون کا افتتاح جلد کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں سینیٹر عتیق شیخ، سینیٹر عثمان کاکڑ، سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر غوث محمد خان، سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف ، سینیٹر سراج الحق، سینیٹر نزہت صادق، سینیٹرستارہ ایاز، سید محمد علی شاہ جاموٹ، سینیٹر میر کبیر احمد سمیت وزارت کے اعلی حکام بھی موجود تھے۔


