
سعودیولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے پہلے دوروزہ سرکار ی دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں نور خآن ایئر بیس پر ان کا استقبال وزیر اعظم عمران خان نے خود کیا ان کے ہمراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خسرو بختیار بھی موجود تھے کے علاوہ سعودی سفیر بھی موجود تھے .نور خان ایئر بیس پر ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا اور انھیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی .ائیرپورٹ پروزیر اعظم عمران خا ن اور سعودی ولی عہد کے درمیان مختصر ملاقات ہوئی . جس میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے .اسلام آباد ائیرپورٹ سےوزیر اعظم ہاؤس تک ان کی گاڑی عمران خان نے خود ڈرائیو کی جبکہ ولی عہد ان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے.اس سے قبل ان کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں پہنچنےپر ان کا استقبال پاک ,فضایہ کے جے ایف 17 اور ایف 16 طیاروں نے کیا اور ان کے طیارے کو اپنے حصار میں لے لیا .اور ان کے طیارے کو حفاظت سے اسلام آباد پہنچایا .سعودی ولی عہد اپنے اس دورے کے دوران پاکستان کی تاریخ میں پہلی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کریں گے ۔33سالہ سعودی ولی عہد جو سعودی بادشاہت کے ڈپٹی وزیراعظم بھی ہیں اپنے ساتھ وزراءاور سرمایہ کاروں کے ایک بڑے وفد کو ساتھ پاکستان لاے ہیں ۔ سعودی ولی عہد کی آمد کے موقع پرسکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں ، محمد بن سلمان کا پاکستان میں تاریخی استقبال کیا جائیگا اور ان کا قیام وزیر اعظم ہاﺅس میں ہوگا ۔سعودی ولی عہد کو ایوان صدر میں استقبالیہ دیا جائیگا جہاں سے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی ولی عہد کی اہم ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوجائیگا ۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو دنیا کے کسی ملک کے کم عمر ترین وزیر دفا ع ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ،وہ نہ صرف شاہی خاندان میں اپنی پوزیشن مستحکم کرچکے ہیں بلکہ سعودی بادشاہت کو روشن خیال بنانے کے حوالے اپنے کچھ اقدامات کی وجہ سے عالمی سطح پر بھی امتیازی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔دنیا کی طاقتور ترین شخصیات میں سعودی ولی عہد آٹھویں نمبر پرہیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں ان کو سال کی اہم شخصیت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوچکاہے ۔ سعودی ولی عہد نے سعودی عرب کیلئے ویژن 2030کا تصور بھی دیا ہے جس کا مقصد سعودی بادشاہت میں اصلاحات اور ملکی معیشت کا دارومدار تیل پر کم کرنا ہے ۔ان کا ایک مشن سعودی عرب کو دنیا کیلئے کھولنا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنا بھی ہے ۔ انہوں نے تبوک کے صوبے میں ایک نئے شہرکی بنیاد رکھی ہے جس میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ٹیکنالوجی اوردیگر سیکٹرز میں سرمایہ کاری کیلئے دعوت دی گئی ہے ۔شخصی آزادیوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی سعودی پرنس سبقت لے گئے ہیں، ان کو عالمی سطح پر بھی اس وقت بہت پذیرائی ملی ہے جب انہوں نے کہا شہری آزادیوں کیلئے کئی اقدامات کئے جس میں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی کا خاتمہ اور 30سال سے بھی زائد مدت کے بعد عوام کیلئے سینماگھروں کاکھولنا ہے ۔ ان کی اصلاحات کے نتیجے میں سعودی عرب کی خواتین اب اپنا کاروبار کرنے ، فوج میں شمولیت کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ان کے ویژن نے سعودی عرب کو خوشحالی کے راستے پر ڈال دیا ہے ۔سعودی ولی عہد کی ملکی معیشت کا تیل پر دارومدار ختم کرنے کی پالیسی نے ملک میں بیرونی سرمایہ کار ی کی راہیں ہموار کی ہیں۔وہ ایک اعتدال پسند اسلامی نقطہ نظر کے وکیل نظر آتے ہیں جو سعودی عرب کو باقی دنیا کے ساتھ جوڑ کر چلنا چاہتے ہیں۔ ان کی جانب سے2017میں کرپشن کیخلاف کئے گئے کریک ڈاﺅن کے نتیجے میں جہا ں سعودی مملکت آگے بڑھی، وہا ں پر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی 106ارب ڈالر کے ذخائر کا اضافہ ہوا ۔سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران جہاں پاکستان میں گوادر کے مقام پر سعودیہ کی جانب سے 8ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری لگانے کا اعلان متوقع ہے وہاں 20ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کے معاہدوں کی توقع بھی جارہی ہے ، سعودی ولی عہد اس موقع پر بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے ۔