اعجاز الاحسن سپریم کورٹ میں متنازعہ آئینی اور سیاسی فیصلوں کے سرخیل تصور کئے جاتے تھے
ان کو سپورٹ کرنے والا سسٹم بھی نہ رہا تھا،سپورٹ کرنے والا سسٹم نہ رہے تو کھڑے رہنا مشکل ہوتا ہے
ایک روز قبل جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی استعفیٰ دے چکے،اگلے منیب اختر ہوسکتے ہیں؟ملک بھر میں چہ مگوئیوں کی زد میں
اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)
سپریم کورٹ کے سنئیر ترین جج جسٹس اعجازا لاحسن جو مستقبل قریب میں چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب سنبھالنے والے تھے نے ڈرامائی انداز میں اچانک استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس اچانک استعفیٰ پر ملک بھر میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔تاحال ان کے استعفیٰ کی اصل وجہ تو سامنے نہیں آسکی ہے لیکن بحثیت جج سپریم کورٹ ان کے 8 سالہ دور کے دوران آئینی اور سیاسی حوالے سے ان کے فیصلے متنازعہ ہی رہے ہیں۔خاص طور پر مسلم لیگ ن کے خلاف جانے والے ہر فیصلے میں وہ پیش پیش رہے۔
ایک رائے یہ ہے کہ ان کے خلاف بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہو ا چاہتا تھا جس کے خوف نے ان کو مستعفیٰ ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان کے ماضی کے متنازعہ فیصلوں نے ان کو بند گلی میں دھکیل دیا تھا۔مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف پے درپے فیصلوں کے باعث ا ن کو عمران دار ججز میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کے ساتھی ججز کے ریٹائر ہونے کے باعث وہ خود کو تنہاء بھی محسوس کر رہے تھے۔ ہم خیال ججز کو سپورٹ کرنے والا سسٹم بھی کمزور ہو چکا تھا۔سپورٹ کرنے والا سسٹم نہ رہے تو کھڑے رہنا مشکل ہوتا ہے ایک یہ بھی ان کے استعفیٰ کی وجہ بنی کیونکہ ان کے ہم خیال ساتھی ججز ریٹائر ہو چکے تھے اور کچھ مستعفٰی ہوچکے تھے۔
ثاقب نثار کے چیف جسٹس بننے کے ساتھ ہی انہیں غیر معمولی پذیرائی اور عروج ملا، سنئیر ساتھی ججز کو نظر انداز کر کے ان کوہر اہم سیاسی اور آئینی بنچ کا حصہ بنایا گیا اور انہوں نے بھی متنازعہ فیصلے کرنے میں کبھی کوئی عار محسوس نہ کیا۔حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے اس وقت بھی بینچوں کی کمپوزیشن میں ججوں کی شمولیت کے حوالے سے متعدد خط لکھے تھے کہ دیگر ججوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
ان تنازعات میں پاناما پیپرز کیس کی احتساب عدالت کی نگرانی سے لے کر تقریباً ہر سیاسی جماعت کے مقدمات سننا، گرینڈ حیات ٹاور کیس کی سماعت پر اعتراضات اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو سپریم جوڈیشل کونسل سے بچانے کی کوششوں جیسے معاملات شامل ہیں۔
جسٹس ثاقب نثار سے لے کرکر جسٹس عمر عطا بندیال کے عرصے تک جسٹس اعجازالاحسن ہراہم کیس کا حصہ ہوتے تھے تاہم جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ اور سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر بلز کے نفاذ کے بعد اگرچہ بینچوں کی تشکیل کے حوالے سے ان سے مشاورت کی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے شکایت کی اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔
بہت سی سیاسی جماعتیں بشمول پیپلزپارٹی، ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام(ف) نے کھلے عام جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر علی اکبر نقوی کی شمولیت پراعتراضات کیے تھے۔لیکن انکی نہ سنی گئی اور نہ اعجاز الاحسن کے کان پر جوں رینگی کہ وہ خود ہی ان مقدمات سے الگ ہو جاتے۔
نوازلیگ نے بالخصوص ان دوججوں پر اعتراضات کیے تھے اور پارٹی قیادت کے خلاف ان کے تعصب کو نمایاں کیا تھا۔پارٹی کے رہنما وں نے سینئر ججوں کی غیر جانبداری کے حوالے سے سوالات اٹھائے تھے اور ایک درجن سے زائد ایسے حوالے دیے تھے جن میں جسٹس اعجاز الاحسن نے نوازشریف اور شہباز شریف کیخلاف فیصلے دیے تھے۔
اس وقت کے وزیرداخلہ راناثنا اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر علی اکبر نقوی پرالزامات عائد کیے تھے کہ وہ نواز لیگ کے خلاف تعصب رکھتے ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نوازلیگ کی قیادت کے حوالے سے مقدمات سے انہیں دور رکھا جائے۔ تاہم ان تحفظات کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو کبھی ان بنچوں سے الگ نہیں رکھا۔رانا ثناء اللہ یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نگراں جج کے طور پر پارٹی قائد نوازریف کے خلاف کیس کی نگرانی گرتے رہے اور ان سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔
یاد رہے کہ پاناما پیپرز سننے والے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے تھے اس میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے جنہوں نے نوازشریف کو عمر بھر کیلیے نااہل کیا تھا۔بینچ نے جسٹس اعجاز الاحسن کو ٹرائل کورٹ کی نگرانی کیلیے نگراں جج مقرر کیا تھا۔ نگراں جج لگانے کا فیصلہ عدالتی دائرہ کار میں ایسا تھا جس کی پہلے کوئی نظرنہ تھی۔
پاناما پیپرز کیس میں جے آئی ٹی کا رکن وٹس ایپ کے ذریعے مقرر کرنے کی سازش بھی شامل تھی۔ چند منتخب عہدیداروں کو سپریم کورٹ کے پاناما بینچ کی ہدایات پر مختلف محکموں سے چنا گیا تھا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے تقریباً ہر مقدمے میں نوازشریف اور شہباز شریف کے خلاف فیصلہ دیا اور ان میں پاناما پیپرز کے علاوہ پارٹی قیادت کا کیس، پاکپتن زمین الاٹمنٹ کیس اور رمضان شوگر ملز کیس وغیرہ شامل ہیں اور اب یہ سب فیصلے واپس ہورہے تھے۔
اسی طرح گرینڈ حیات ٹاور کیس مین جسٹس اعجاز الاحسن کی شمولیت پر وکلا نے سوال اٹھایا تھا۔ ان وکلا کیمطابق جسٹس اعجازالاحسن گرینڈ حیات ٹاور بنانے والی کمپنی کے لیگل ایڈوائزر تھے۔ مفادات کے اس واضح ٹکراؤکے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو بینچ سے نہیں نکالا اور بالآخر اپنی کلائنٹ کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا۔
حال ہی میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اعجاز الاحسن کے مابین اس وقت ایک تنازع ہوا جب بینچوں کی تشکیل اور ان میں سینئر ججوں کی شمولیت کا معالہ زیر غور آیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے چیف جسٹس کو ایک خط لکھاجس میں انہوں نے بینچوں کی تشکیل سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کے خدشات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے الزامات حقائق اور ریکارڈ کے خلاف ہیں۔ ہمیں چھ دنوں کی تنخواہ ملتی ہے ساڑھے چار دن کام کرنے کی نہیں۔ یہ چیف جسٹس نے اس وقت لکھا جب انہیں اطلاع ملی کہ جمعہ کی سہ پہر کو جسٹس اعجاز الاحسن لاہور روانہ ہوگئے تھے۔
ایک اور تنازع اسوقت ابھر کر سامنے آیاجب جسٹس اعجاز الاحسن نے سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن کی حیثیت سے جسٹس مظہر اکبر نقوی کو شاکاز نوٹس جاری کرنے کی مخالفت کی اور اسے ایک عاجلانہ، غیر ضروری اور طے شدہ قانونی معیارات کے خلاف قرار دیا۔
تاہم ان کی مخالفت اور تحفظات کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے ساتھی جج کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور اپنے آٹھ سالہ کیرئیر کے دوران اعجاز الاحسن نے خود کو تنہاء اور بے بس محسوس کیا۔
ہم خیال ججز میں ان کے بعد خیال کیا جاتا ہے کہ اگلے جسٹس منیب اختر ہو سکتے ہیں،کیونکہ ساتھ ججز کے جانے کے بعد وہ خود کو تنہاء محسوس کر رہے ہوں گے۔


