شہبازشریف عظیم لیڈر اور بہترین شخص ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ

لوگوں نے محض امن کی باتیں کیں‌ میں‌ نے امن کا قیام ممکن بنایا
غزہ بورڈ پیس کے لوگ بہت خاص اور اچھے ہیں پاکستان، قطر، اردن اور دیگر ممالک شریک ہیں
بڑے فیصلے کرنے جارہا ہوں، امریکی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا،جنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف ایک عظیم لیڈر اور بہترین شخصیت ہیں‌، یقین ہے کہ امریکی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا،ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہمیں متحد رہنا ہوگا ، ایران دنیامیں بدمعاشی کرتاتھا،اب نہیں کرسکتا،بڑے فیصلے کرنے جا رہا ہوں، مجھے دوبارہ فیصلہ کرناہے کہ میں ایران کو تباہ کردوں یا نہیں.تمام ممالک ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
ان خٰیالات کا اظہار انہوں‌نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباشریف بہترین شخص ہیں اور وہ ایک عظیم لیڈر ہیں ، وزیراعظم پاکستان نے کہا میں نے کروڑوں کی جانیں بچائیں.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پنے خطاب میں کہناتھا کہ مجھے یقین ہے کہ امریکی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا، ایران کے بارے میں مجھے ایک فیصلہ کرنا ہے، ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہمیں متحد رہنا ہوگا، ایران کی حکومت کمزور اور مایوس ہے، تمام ممالک ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ بورڈ پیس کے لوگ بہت خاص اور اچھے ہیں،غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان ،قطر ،اردن اور دیگر ممالک شریک ہیں،میں نے دنیا 8جنگیں ختم کرائیں،میں کئی ایسی جنگیں ختم کرائی جو کئی سالوں سے جاری تھیں،پاکستان اور بھارت کی جنگ ختم کرائی ۔ روس اور یوکرین جنگ میں روزانہ 25ہزار فوجی مر رہے ہیں۔
امریکی صدر کا کہناتھا کہ ایران دنیامیں بدمعاشی کرتاتھا،اب نہیں کرسکتا،آپریشن مڈنائٹ ہیمر سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچایا،ایران دنیا میں دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے،میں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کیے، ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیارنہیں رکھ سکتا، صدیوں پرانے تنازعات کو ختم کرنےکی کوشش کی،میں نے دنیا میں قیام امن کیلئے کام کیا،دنیا بھر کے سرمایہ کار امریکا میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، امریکا کو سنہرے دورمیں واپس لے کر آیا، امریکا میں سیاحت کا شعبہ فروغ پا رہا ہے۔صدرٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا مستقبل روشن ہے،سابق حکومت نے امریکی معیشت کو مردہ بنا دیا تھا،امریکی فوج بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، ہم نجی سیکٹرمیں بڑے پیمانے پر نوکریاں لائے، امریکی معیشت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، امریکا آج پہلے سے زیادہ طاقتورہے.
ان کا کہناتھاکہ وینزویلا میں کامیاب آپریشن کیا،وینزویلاسے بڑے پیمانے پر تیل حاصل کر رہے ہیں اور فروخت کر رہے ہیں، میں بڑے فیصلے کرنے جا رہا ہوں.
مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بڑا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں، انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایران کو تباہ کردیں یا انہیں دوبارہ پنپنے دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج امریکا میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، آج امریکی سرحدیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں، امریکا میں آج 125 سال کے مقابلے میں قتل کی وارداتوں کی شرح کم ترین ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ لوگوں نے امن کی باتیں کیں، میں نے امن کا قیام ممکن بنایا، امریکا میں غربت کی شرح ریکارڈ سطح تک نیچے آگئی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران سے معاہدہ کرنا چاہا لیکن ایران نے انکار کردیا، ایران کی دہشتگرد رجیم بہت برے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، ایران کا برا طرز عمل اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ کمزور ہوگئے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی معیشت تباہ ہوچکی اور اب وہاں منہگائی 300 فیصد ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایران دیکھنا چاہتے ہیں کہ مڈٹرم الیکشن میں میری پوزیشن کیا رہتی ہے، ایرانیوں کو احساس نہیں کہ میں تو مڈٹرم الیکشن میں لڑ ہی نہیں رہا۔
اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہُرمُز سے ایک ارب بیرل تیل نکلوایا ہے۔انہوں نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں ایک بار پاکستان اور بھارت کی جنگ ختم کرانے کا ذکر کیا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت سے نکل جائیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی عالمی ادارہ امریکا پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے، عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر دائرہ اختیار حاصل نہیں، امریکا کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کسی عالمی ادارے کو امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکا اپنے شہریوں اور قومی مفادات کا ہر صورت دفاع کرے گا۔انہوں نے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں عدالت کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس بدمعاش ادارے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو جائیں۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجی اہلکاروں کو کسی بھی ’امریکا مخالف ٹریبونل‘ کے نام نہاد اور نمائشی ٹرائلز کا نشانہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔
کیوبا کے وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے دوران واک آوٹ کیا۔