ملتان میٹرو بس سیکنڈل

راولپنڈی…..ایف آئی اے اور حکومت پنجاب کی تحقیقات کے مرکزی نکات یہ ہیں کہ کیا چینی کمپنی جیانگ سو یابائت اصل کمپنی ہے یا پھر کچھ چینی شہریوں کو اس کمپنی کے آلہ کار کے طور پر کسی خاص مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا،اس چینی کمپنی کی حرکات مشکوک تھیں، غیر معمولی رقوم کی منتقلی سی ایس آر سی کا دھیان بٹانے کا ایک منظم طریقہ واردات تھاکیوں کہ جب سی ایس آر سی سے چینی کمپنی کے اکاؤنٹ میں غیر معمولی رقوم کی منتقلی کے بعد رقوم کے ذریعے سے متعلق پوچھا گیا تو اس نے حکومت پنجاب کا نام لیاصرف یہ ہی نہیں بلکہ اس نے مبینہ طور پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس کی پاکستانی شراکت دار کمپنی کیپٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کے اصل مالک وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہیں،چینی کمپنی یابائت نے اپنی 2016کی سالانہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ اس نے ملتان میٹرو بس پروجیکٹ کی تعمیر 31دسمبر، 2015سے قبل مکمل کرلی تھی جس سے اسے 20کروڑ 10لاکھ آر ایم بی منافع ہوا تھا۔بیرون ممالک سے اس غیر معمولی رقوم کی منتقلی کے جواز کے طور پر یابائت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ملتان میٹرو بس پروجیکٹ کے ذریعے بڑا منافع کمایااوراپنی پاکستانی شراکت دار کمپنی کیپٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کا جعلسازی سے نام دیا۔ پہلے اس جعلی کمپنی کے جعلی دستاویزات سی ایس آر سی کو جمع کرائے گئے، یابائت نے پاکستان میں ایک کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ اسے پاکستان میں رجسٹر کرایا جاسکے۔چینی کمپنی یابائت کو اس اسکینڈل میں پہلا بڑا دھچکہ اس وقت لگا جب ایس ای سی پی نے کیپٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی کی رجسٹریشن مسترد کردی اور اس کے نام پر کچھ اعتراضات اٹھائے اورچینیوں نے اپنے مقامی شراکت داروں اور کنسلٹنٹ پر دباؤ ڈالا کہ وہ صرف اسی نام پر رجسٹریشن چاہتے ہیں اور ان کے لیے کوئی دوسرا نام قابل قبو ل نہیں ہے اسی سبب چینیوں اور ان کے مقامی شراکت داروں کے درمیان بڑا تنازعہ پیدا ہوگیاتاہم جب ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تو وہ ایک نئے نام کیپفا کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ (ایس ایم سی۔پرائیویٹ)لمیٹڈ پر رضامند ہوگئے جو کہ اب ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے، دیکھنا ہوگا کہ ان تمام معاملات کے پیچھے کون ہے ؟۔جس نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کو گہری سازش کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔