تحریک انصاف نے فیصلے کو آئین اور قانون کی فتح قراردیا ،فیصلہ مبہم اور آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے ،حکومتی حلقے
چیف جسٹس کی مدت مقرر کرنے کے حوالے سے آئین میں تبدیلی کی قیاس آرائیں بھی فیصلے کی ایک وجہ ہو سکتی ہیں؟
فیصلے سے لاڈلہ ازم اور گڈ ٹو سی یو کی بو آرہی ہے،فیصلے نے الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے کے احکامات کو بلڈوز کیا ،شرجیل میمن
فیصلے کے بعد پی ٹی آئی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آگئی ،آئین میں تبدیلی کی افوائیں بھی دم توڑ گئیں
15 دنوں کے اندر تحریک کے انصاف میں فاروڈ بلاک بننے جارہا ہے ،فیصل واوڈا کی پیشن گوئی حکومت کے لئے اچھی خبر
آئین و قانون کو ایک طرف رکھ کر فیصلے جب تک قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہوں گے ان پر تنقید کا سلسلہ جاری رہے گا

اسلام آباد(رپورٹ:محمد رضوان ملک)بڑی عدالت کا بڑافیصلہ آگیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے تحریک انصاف نہ صرف بحثیت سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں واپس آگئی ہے بلکہ اسے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا حقدار بھی قراردیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک میں سیاسی بھونچال آگیا ہے۔کہیں خوشی اور کہیں غم کی کیفیت ہے ، پی ٹی آئی ملک بھر میں جشن منارہی ہے جبکہ حکومتی حلقے سوگ کی کیفیت میں ہیں۔ حکومت کی طرف سے فیصلے کو چیلنج کرنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔حکومتی حلقوں کی جانب سے قراردیا جارہا ہے کہ فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق نہیں ، یہ آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف فیصلہ سیاسی اور ذاتی پسند و ناپسند کا مظہر ہے ۔
ذرائع کے مطابق آئین میں مجوزہ تبدیلی کی خبریں بھی فیصلے کی ایک وجہ بنی ہیں، کچھ عرصے سے چیف جسٹس کی مدت مقرر کرنے کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں۔فیصلے کے بعد سے اب پارلیمنٹ میں حکومت کی اکثریت تو موجود رہے گی لیکن دوتہائی اکثریت ختم ہو گئی ہے اور وہ آئین میں تبدیلی جیسا کوئی اقدام نہیں کر سکتی ۔عدالت کے اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آگئی ہے اور آئین میں تبدیلی کی افوائیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔
عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد جمعہ کے روز حکومت کے لئے صرف ایک اچھی خبر تھی اور وہ خبر فیصل واوڈا کا یہ انکشاف تھا کہ پندرہ دنوں کے اندر تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بننے جارہا ہے۔
فیصلے کے بعد تحریک انصاف نے لاہور اور کراچی میں فیصلے کے حق میں اور مسلم لیگ ن نے فیصلے کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے کئے ۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے لاڈلہ ازم اور گڈ ٹو سی یو کی بو آرہی ہے، فیصلے کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان جیسے آئینی ادارے کے احکامات کو بلڈوز کیا گیا، فیصلے کیخلاف اپیل کرنا وفاقی حکومت کی صوابدید ہے۔کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو ہر وہ فیصلہ بھی ماننا پڑا ہے جس سے اس کو نقصان پہنچا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے ابہام پیدا ہوا ہے، وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل کرتی ہے یانہیں یہ وفاقی حکومت کی صوابدید پر ہے، ۔ آج کے فیصلے نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی پس پشت کیا گیا ہے، پشاور ہائیکورٹ نے پہلے بھی بی آر ٹی کے خلاف فیصلہ دیا تھا جس کو جسٹس بندیال نے مسترد کردیا تھا۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار کا ہر عمل اور فیصلہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
پاکستان جو اس لئے بنایا گیا تھا کہ یہاں قرآن و سنت کے مطابق فیصلے ہوں گے لیکن بدقسمتی سے 77 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان میں اسلامی قوانین کا نفاذ نہ ہوسکا جس کے نتائج آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ آئین کو چھوڑ کر فیصلے جب تک قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہوں گے ان پر تنقید کا سلسلہ جاری رہے گا۔
سپر یم کورٹ کے فیصلہ کے بعد قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن بھی تبدیل ہوگئی ہے PTI 115 نشستوں کے ساتھ سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی ہے ن لیگ 15 ،پیپلز پارٹی پانچ اور جے یو آئی ف تین نشستوں سے محروم ہو گئیں ۔
ن لیگ نہ صرف قومی اسمبلی میں سنگل لارجسٹ پارٹی نہ رہی بلکہ حکمران اتحاد دو تہائی اکثریت سے محروم ہو گیا۔ اب آئین میں ترمیم نہیں ہو سکتی، اپوزیشن کی تعداد بڑھ کر126 ہوگئی ہے تاہم شہباز شریف حکومت کو خطرہ نہیں، حکومت سازی کیلئے 169ممبران کی سادہ اکثریت درکار ہے اس وقت قومی اسمبلی کی کل نشستیں 336 ہیں۔دو تہائی اکثریت کے لیے 224 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ دو تہائی اکثریت کے بغیر آئین میں ترمیم نہیں ہو سکتی۔دو تہائی نشستوں کے بغیر کوئی بھی حکومت صرف عام نوعیت کی قانون سازی کر سکتی ہے۔ فیصلہ کا واحد نقصان یہ ہوگا کہ موجودہ مخلوط حکومت آئین میں ترمیم نہیں کر سکے گی۔
قبل ازیں الیکشن کمیشن کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی نشستیں حکمراں اتحاد میں تقسیم کرنے سے اسے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مل گئی تھی۔قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے لیے 224 ارکان درکار تھے مگر حکمراں اتحاد میں شامل پارٹیوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 230 تک پہنچ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔




