بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے ٹھیکوں مین لاکھوں روپے خرد برد کا انکشاف

اسلام آباد………بارانی زرعی یونیورسٹی راوالپنڈی کے ٹھیکوں میں لا کھوں روپے خورد برد کے سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے۔ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ اپنے من پسند ٹھیکیدار کو دلانے کے لیے مخالف ٹھیکیدار کو تین ماہ تک بلیک میل کرنے کے بعد بات نہ بننے پر ٹھیکہ منسوخ کر دیا۔ ٹینڈر پر آنیوالے لاکھوں روپے کے اخراجات ضائع ہو گیئے۔ تفصیلات کے مطابق بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے ورکس ڈیپارٹمنٹ نے یونیورسٹی کے مین کیمپس راولپنڈی میں سڑک کی تعمیر کے لیے تقریباً46 لاکھ روپے کا ایک ٹینڈر نکالا ،جس کے لئے اخبارات میں لاکھوں روپے کے اشتہار دیئے گئے اور دیگر اخراجات بھی کئے گئے جس کے بعد 5 ٹھیکیدارون نے ٹینڈر ڈٖاکومنٹس حاصل کئے ، 5 دسمبر 2018 کو ہونے والے ٹینڈر میں صرف دو کمپنیوں میسرز عرفان اختر اینڈ کو اور میسرز ایم عارف سندھو نے اپنے ٹینڈر ڈالے ، محکمہ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سہیل بھٹی اور ایکسین نعیم اسلم نے میسرز عرفان اسلم کو نوازنے کے لیئے باقی ماندہ تمام ٹھیکیڈاروں کو ٹینڈر ڈالنے سے روکا ، عارف سندھو کو بھی روکا گیا مگر انہوں نے مقررہ تاریخ پر ٹینڈر ڈال دیا ۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عارف سندھو نے ٹیندر 13فیصد کم ڈالا تھا جس کے باعث ادارے کو لاکھوں روپے کا فائدہ ہونا تھا ۔شیڈول کے مطابق ٹینڈر اسی روز ٹھیکیداروں کی مو جودگی میں کھولا جاناتھا مگر محکمہ کے افسران نے اپنے من پسند ٹھیکیدار حاجی اختر کی کمپنی کو نوازنے کے لئے ٹینڈر نہ کھولے اور ساڑھے تین ماہ تک عارف سندھو کمپنی پر دباؤ ڈالتے رہے کہ تم دستبردار ہو جاؤ کیونکہ ہم نے یہ کام عرفان اختر اینڈ کو کو دینا ہے اس نے بغیر ٹینڈر کے پہلے ہی کام کیا ہوا ہے مگر جب بات نہ بن سکی تو انہوں نے ساڑھے تین ماہ بعد مارچ 2019 میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے ٹینڈر منسوخ کر دیئے اور ادارے کو نا صرف ٹینڈر پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں نقصان پہنچایا بلکہ کم ریٹ کی وجہ سے ہونے والی لاکھوں روپے کی بچت سے بھی ادارے کہ محروم کر دیا ۔ اس بارے میں جب پراجیکٹ ڈائریکٹر سہیل بھٹی سے بات کی تو انہوں نے مختصرا کہا کہ ٹینڈر کمیٹی نے منسوخ کیا ہے مگر وہ اسکی کوئی معقول وجہ نہ بتا سکے اور فون بند کر دیا ۔