چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا دوسرامرحلہ مرحلہ مقامی آبادیوں کیلئے ترقی اور خوشحالی لائے گا۔وزیر خارجہ شاہ

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا دوسرامرحلہ مرحلہ مقامی آبادیوں کیلئے ترقی اور خوشحالی لائے گا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی تزویراتی شراکت داری اور تعاون کو مزید تقویت دیں گے تاکہ چین،پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی عوام تک اس کے ثمرات پہنچیں،چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، یہ مرحلہ مقامی آبادیوں کیلئے ترقی اور خوشحالی لائے گا،2019ء کو چین اور پاکستان کے باہمی تعلقات کے سال کے طور پر منایا جارہا ہے،چین کے نائب صدر کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چین کے نائب صدر وانگ چی شان کے اعزاز میں منعقدہ سلک روڈ کے دوست فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کے نائب صدر  وانگ چی شان اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں، پاکستانی عوام کے ساتھ چین کی دہائیوں پر محیط گہری دوستی و حمایت اور پاک چین دوستی پر کامل یقین پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ چین میں وانگ چی شان کا ایک ممتاز تاریخ دان، بے مثال معیشت دان اور ایک عظیم رہنما کے طورپر احترام کیاجاتا ہے۔چین پاکستان تزویراتی تعاون وشراکت داری میں آپ کی مخلصانہ کاوشیں دونوں ممالک کے لئے نہایت قابل قدر ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان دوستی کے رشتے کو مزید تقویت دینے میں آپ کی بصیرت افروز کوششوں کو سراہتا ہوں۔آپ کی ہماری قیادت سے ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو سے دونوں ممالک کی عظیم دوستی کو مزید فروغ ملے گا۔عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی ستر سالہ سالگرہ پر آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے بیجنگ میں کامیاب انعقاد پر بھی ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں،پاکستان اور چین دو انتہائی بااعتماد دوست اور شراکت دار ہیں،دونوں ممالک کی دوستی کی بنیاد مشترکہ قدروں، تجربات، اہداف، امن وبھائی چارے اور خوشحالی کی مشترکہ خواہش پر استوار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین، نئے دور کے آغاز، مستقبل میں مشترکہ خوشحال ومضبوط دنیا کے لئے اجتماعی مذاکرے، عملی تعاون کو پختہ کرنے اور مل کرکام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سینیٹر مشاہدحسین سید کی کاوشوں کا اعتراف کرتا ہوں، وہ چین کے پرانے دوست ہیں۔سینیٹر مشاہد حسین سید کو تقریب کے انعقادپرمبارک دیتا ہوں، وہ دونوں ممالک کے عوام، سیاسی جماعتوں کو قریب لائے۔پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ نے عوام کے لئے پلیٹ فارم کا اجراء کیا ہے جس میں دونوں طرف کے متعلقہ فریقین شرکت کرسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں جانب کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد کی ملنساری میں اضافے سے بیلٹ اینڈ روڈ پر ہم آہنگی بڑھے گی۔ مشاہد حسین سید نے مارچ 2019ء میں سی پیک سیاسی جماعتوں کی مشترکہ مشاورت کے طریقہ کار کی تخلیق میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اس ضمن میں چین کی کمیونسٹ پارتی کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے کردار کو بھی سراہتا ہوں۔دونوں کی کاوش کی بناء پر ہی مارچ 2019ء میں،بیجنگ اعلامیہ، کی منظوری ممکن ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک نے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، معاشی وسماجی ترقی کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرنے میں مدد دی ہے۔ سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس میں صنعتی، سماجی ومعاشی تعاون پر توجہ مرکوز کی گئی ہے،یہ مرحلہ مقامی آبادیوں کے لئے ترقی وخوشحالی لائے گا، ترجیحی خطوں کے ساتھ پاکستان کی ترقی میں اضافہ کی راہ ہموار ہوگی۔وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ نومبر 2018 اور اپریل 2019ء میں وزیراعظم کے دورہ اور دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں
شرکت سے چین اور پاکستان میں اشتراک عمل مزید مضبوط ہوا ہے۔ہماری حکومت کی اول دن سے بنیادی توجہ غربت کے خاتمے، صنعتی ترقی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور سائنسی تخلیق اور زرعی ترقی پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کے لئے ہماری کوششیں بھی رنگ لارہی ہیں، عوام کی معاشی وسماجی بہتری کے لئے کوششوں پر توجہ دی جارہی ہے۔دونوں ممالک کی مشترکہ سوچ ہے کہ ہم اپنے عوام سمیت تمام بنی نوع انسان کی بہتری چاہتے ہیں۔اپنی صلاحیتوں کو مشترکہ طورپر استعمال میں لاکر ترقی کا ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی تزویراتی شراکت داری وتعاون کو مزید تقویت دیں گے تاکہ چین، پاکستان اور دنیا کے عوام تک ثمرات پہنچیں،چین اور پاکستان 2019ء کو باہمی تعلقات کے سال کے طورپر منا رہے ہیں، عوام کی سطح پر مراسم کو ایک نئے درجے تک بڑھانے کی امید ہے،نائب صدر چین کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید پختہ ہوں گے اور فروغ پائیں گے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نائب صدر چین کا پاکستان کو دورہ کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔