سینیٹ ,اسلام آباد ہائی کورٹ (ترمیمی) بل 2019ء پر غور کی تحریک کو کثرت رائے سے مسترد

اپوزیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافے کے بل کو مسترد کر کے عوامی مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے۔فیصل جاوید

اسلام آباد: سینیٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ (ترمیمی) بل 2019ء پر غور کی تحریک کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم سواتی نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی جس پر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہم قائمہ کمیٹیوں کا احترام کرتے ہیں۔ بل پر ووٹنگ اور اسے منظور یا نامنظور کرنا ایوان بالا کا استحقاق ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ وفاق کی نمائندہ ہے، موجودہ صورتحال میں عدالتی اصلاحات پر کام کیا جائے، زیر التواء مقدمات کو تیزی سے نمٹایا جانا چاہئے، ایوان کے ارکان ربڑ اسٹیمپ نہیں، ان کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی نشستیں خالی ہیں، پہلے ان کو پُر کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے ساتھ کیا گیا وعدہ بھی پورا کیا جائے۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ عوام کی مشکلات کا ازالہ کیا جانا چاہئے، اپوزیشن عوام کے مفادات کے خلاف بات کر رہی ہے۔ بل موخر کر دیں تاکہ یہ بے نقاب ہو جائیں اور ان کے یو ٹرن بھی سامنے آ جائیں، ہم عوامی بھلائی کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہا کہ اس معاملے پر پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے بل منظور کیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں آٹھ ہزار مقدمات زیر التواء ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافہ سے عوامی مشکلات کے حل میں مدد ملے گی۔ بعد ازاں چیئرمین نے تحریک پر منظوری کے لئے ایوان سے رائے لی جسے کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔اس پر تحریک انصاف کے سینٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ایوان کا ماحول بہتر رکھا جائے۔ اپوزیشن کا کام صرف شور شرابہ کرنا رہ گیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافے کے بل کو مسترد کر کے عوامی مفادات پر سمجھوتہ کیا ہے۔ ججوں کے خلاف جو زبان استعمال کی وہ سب کے سامنے ہے۔ ان کا کام صرف اپنے لیڈروں کی کرپشن کا تحفظ کرنا رہ گیا ہے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کا بل مسترد ہونے پر اس کمیٹی کے اپوزیشن کے ارکان استعفیٰ دے دیں کیونکہ ان کی پارٹیوں نے ان کی تجاویز کو مسترد کیا ہے۔ یہ بل سیاست کی نظر ہو گیا ہے۔ یہ اپوزیشن کے لئے ندامت کا دن ہے۔