جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے کپاس‘ گنے اور دیگر نقد آور فصلوں کی پیداوار کو بڑھا کر ملک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے اور آئی ایم ایف سے نجات کا بھی یہی واحد راستہ ہے۔فخر امام

Image result for fakhar imam

 

اسلام آباد: سابق سپیکر اور پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے کپاس‘ گنے اور دیگر نقد آور فصلوں کی پیداوار کو بڑھا کر ملک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے اور آئی ایم ایف سے نجات کا بھی یہی واحد راستہ ہے نوجوان نسل کو فنی تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لئے ووکیشنل اور ٹیکنیکل اداروں کے قیام پر توجہ دی جائے اور قابل اساتذہ کے ذریعے معیار ی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔دنیا میں آبادی کے لحاظ سے ہم پانچواں اور معاشی لحاظ سے 40 ویں نمبر پر ہیں۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق سپیکر سید فخر امام نے کہا کہ مالیاتی بل سب سے اہم بل ہے، اس میں ٹیکسیشن اور دیگر بجٹ تجاویز کو تحفظ دیا جاتا ہے، پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث خوش آئند ہے، منتخب عوامی نمائندوں کو ہی ٹیکسوں سمیت دیگر مالی تجاویز کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں 23 ویں مرتبہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مسلسل خسارے کا بجٹ کیوں پیش ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں ڈائریکٹ 19 اور ان ڈائریکٹ 38 فیصد زراعت کا حصہ ہے، دنیا میں آبادی کے لحاظ سے ہم پانچواں نمبر پر اور معاشی لحاظ سے 40 ویں نمبر پر ہیں، آبادی کے لحاظ سے ہم نے دنیا کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، معاشی لحاظ سے ہم بہت پیچھے ہیں۔ ہم ترقی پذیر معیشت ہیں، چند ادوار میں ہماری شرح نمو بہتر تھی مگر بدقسمتی سے گزشتہ 20 سالوں میں ہماری شرح نمو دو سے تین فیصد نہیں بڑھی۔ فخر امام نے کہا کہ پاکستان کا 50 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے۔ پاکستان میں مکئی کی پیداوار 15 لاکھ ٹن سے 60 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں گندم کی قیمت عالمی قیمتوں سے مطابقت رکھتی ہے‘ کپاس کی پیداوار کم ہوکر دس لاکھ گانٹھوں تک آگئی ہے۔ اسی طرح گنے کی پیداوار بہت کم ہے، اگر ہم کپاس کی امدادی قیمت کا اعلان کریں تو یہ پیداوار بھی بڑھے گی۔ بنگلہ دیش کی گزشتہ سال کی برآمدات 38 ارب ڈالر کی تھیں، ہمیں خام کپاس بیچنے کی بجائے ملک کے فائدے کے لئے کپاس کی تیار اشیاء پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم نے عوام کے فائدے کی بجائے ذاتی مفاد کے تحت فیصلے کئے اگر فیصلے ریاست اور ملک کے مفاد میں ہوتے تو آج کا پاکستان مختلف ہوتا اسی وجہ سے موجودہ حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پڑے ہیں۔ 104 ارب ڈالر بیرونی جبکہ 22 ارب ڈالر کے مقامی قرضے ہیں، نوجوان پاکستان کے لئے بہت بڑی قوت ہیں کیونکہ ہماری 70 فیصد آبادی 36 سال سے کم ہے۔ دو کروڑ بچے سکول نہیں جارہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں کو تکنیکی تعلیم دینے کے لئے ٹیکنیکل اور ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ بنانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری صرف پانچ یونیورسٹیوں کا شمار عالمی رینکنگ میں آتا ہے‘ ہمیں معیاری تعلیم پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اگر ہم نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ہمیں اپنا مقام بھی دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیوب ویلوں کو سستی بجلی فراہم کی جائے‘ اس ضمن میں اضافہ واپس لیا جائے۔اگر ہم نے آئی ایم ایف سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑانی ہے تو کپاس کے زیادہ پیداوار دینے والے بیج پر توجہ دینا ہوگی اور اپنی پیداوار سالانہ 20 لاکھ گانٹھوں تک بڑھانی ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آلو اور تمباکو کے کاشتکاروں کے مفادات کا خیال رکھا جائے۔ انہوں نے تجویز دی ملک میں آبپاشی کے جدید نظام اور طریقہ کار پر توجہ دی جائے۔ نقد آور فصلوں کے حوالے سے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور ریسرچ پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔