خیبرپختونخوا، 28 روزوں بعد عیدالفطر کا اعلان ، عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

پشاور:پشاورہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس مس مسرت ہلالی پرمشتمل بنچ نے خیبرپختونخوا میں 28 روزوں بعدعیدالفطر کااعلان کرنے پر صوبائی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔ فاضل بنچ نے شاہداورکزئی کی رٹ کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیاگیا کہ خیبرپختونخواحکومت نے 28ویں روزے بعد عیدالفطرکااعلان کیاجبکہ پورے ملک میں29روزے مکمل ہونے پرعیدالفطر منائی گئی ، دو عیدوں نے صوبے کو پورے ملک سے علیحدہ کردیا، صوبے میں بھی ہزارہ ٗ ملاکنڈاورجنوبی اضلاع میں 29روزوں کے بعد عیدالفطرمنائی گئی جبکہ گورنرجووفاق کےنمائندہ ہیں نے صوبے میں سرکاری عیدکی حمایت کرکے وفاق کواعتماد میں نہیں لیا۔
یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ شریعت کے مطابق کا مہینہ کم سے کم ۲۹ دنوں کا ہوتا ہے ۔لیکن صوبائی حکومت نے رمضان کا آغاز تو وفاق کے ساتھ کیا لیکن عید مفتی پوپلزئی کے اعلان کے ساتھ منائی اور ۲۸ روزے کے بعد سرکاری سطح پر عید منائی گئی ۔اس سلسلے میں خیبر پختون خوا کے وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ انہوں نے ۲۸روزوں کے بعد عید منانے کے فیصلے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا تھا لیکن انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔